فکری ڈھانچہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۸، صفحہ ۳۰
بیسویں صدی کے نصف آخر میں پہلی بار یہ واقعہ پیش آیا ہے کہ دنیا کا مروجہ فکری ڈھانچہ اور قرآن کا فکری ڈھانچہ دونوں ایک ہوگئے ہیں۔ قرآن کا فکری ڈھانچہ برہانیات پر قائم ہے، وہ حقائق اور واقعات کی بنیاد پر بنتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں سائنسی طرز فکر اس کی عملی صورت ہے۔ اس کے رواج نے تاریخ میں پہلی بار انسانی فکر اور قرآنی فکر کی دوری کو ختم کر دیا ہے۔ انسان کی فکری زمین آج وہی برہانیاتی زمین ہے جو قرآن کی زمین ہے۔ آج یہ ضرورت نہیں کہ اسلام کو لوگوں کے لئے قابل فہم بنانے کی خاطر کسی دوسرے فکری ڈھانچہ کا سہارا لیا جائے۔ آج ہم کو صرف یہ کہنا ہے کہ قرآن کو اس کی اپنی برہانیاتی زبان (نسار ۳، ۱) میں پیش کر دیں۔ یہی اس کو لوگوں کے نزدیک قابل قبول بنانے کے لئے کافی ہوگا۔ ایک پروفیسر سے راقم الحروف کی اسلام کے بارے میں گفتگو ہورہی تھی۔ میری زبان سے نکلا: ISLAM MEANS REALISM - اسلام کا مطلب ہے، حقیقت پسندی۔ وہ اسلام کی اس تشریح سے بے حد متاثر ہوئے۔ انھوں نے کہا: "اسلام اگر حقیقت واقعہ سے مطابقت کا دوسرا نام ہو، تو کون ہوگا جو اس کا انکار کرے گا۔ اسلام اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ آدمی صورت واقعہ کو تسلیم کرلے۔ سوچ کا معاملہ ہو یا عمل کا، آدمی وہی کرے جو عالم خارجی کے تقاضوں کے مطابق ہو: أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے سوا کسی اور طریقہ کو چاہتے ہیں وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً (آل عمران - ۸۳) حالانکہ اسی کے حکم میں ہے جو کوئی آسمان اور زمین میں ہے خوشی سے اور ناخوشی سے۔
سائنس اس قسم کے ایک "دین" کے لئے بہترین ذہنی زمین فراہم کرتی ہے۔ سائنس، یعنی علوم قطعیہ (EXACT SCIENCES) اپنی عین فطرت کے مطابق قطعیت فکر (EXACT THINKING) یا صحت فکر (پی سائنز ڈھنگ) پیدا کرتے ہیں۔ اس قسم کے ایک ذہن کے لئے اسلام کی بات اسی طرح قابل فہم بن جاتی ہے جس طرح ایک قانون پسند آدمی کے لئے ایک قانونی نکتہ۔
کہا جاتا ہے کہ ایک بار کسی مجلس میں خدا کے وجود پر بحث ہورہی تھی۔ مسئلہ طے نہیں ہو رہا تھا۔ بستی میں ایک بزرگ تھے۔ جب بحث لمبی ہوگئی تو کچھ لوگ ان کے پاس گئے اور کہا کہ آپ ہماری مجلس میں چلیں اور ہماری مدد فرمائیں ۔ وہ اپنے حجرے سے نکل کر آئے۔ مگر مجلس کے سامنے انھوں نے کوئی لمبی تقریر نہیں کی۔ وہاں پہنچ کر انھوں نے یہ آیت پڑھی: اَفَی اللّٰہِ شَکٌّ فَاطِرِ السَّمٰوَاتِ وَالارضِ اور اٹھ کر چلے آئے، بحث ختم ہوگئی۔ لوگ خدا کے وجود کے قائل ہوگئے۔
سیکڑوں برس پہلے جس چیز نے لوگوں کو مطمئن کیا تھا، وہ آیت کا ادبی زور یا قیاسی استدلال تھا۔ یعنی یہ کہ جب ایک کائنات ہے تو اس کا پیدا کرنے والا بھی ہونا چاہئے، تاہم آج کے انسان کے لئے اس کے اندر ایک زبردست واقعاتی استدلال موجود ہے۔ "فاطر" کے معنی عربی زبان میں ہیں، پھاڑنے والا۔ آج کا انسان جس زمین و آسمان سے واقف ہے، وہ ایک پھیلی ہوئی کائنات ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایک ایسی کائنات جو ابتدا کو سکڑی ہوئی تھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1978 All issues