فکری ڈھانچہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۸، صفحہ ۴۱
پھر چاڑی گئی۔ اس وقت اس کے تمام اجزار (ٹائم) اندر کی طرف بے پناہ طاقت کے ساتھ کھنچے ہوئے تھے۔ اس واحد مجموعہ مادہ (سپرائیم) کے منشا کا پھٹ کر بیرونی خلا میں منتشر ہونا کسی خارجی قوت کی مداخلت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ پندرہ ملین سال پہلے اس سپرائیم میں اخراج طاقت (ENERGY RELEASE) کا ایک واقعہ ہوا اور اس کے بعد کائنات اپنے چاروں طرف تیزی سے پھیلنے لگی ________ کل کا انسان جس خدا کی ہستی کو قیاس کے تحت سمجھتا تھا، آج کے انسان کے لئے ممکن ہو گیا ہے کہ وہ اس کو واقعات و حقائق کی روشنی میں سمجھ لے۔ عرب میں اسلام کو سر بلند کرنے کے لئے جو طریق عمل اختیار کیا گیا، اس کو قرآن میں اطراف ارض کو گھٹانے کے عمل (رعد ۴۳) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی حریف سے یکبارگی لڑ پڑنے کے بجائے دھیرے دھیرے اس کی دنیا میں داخل ہونا۔ یہ بات قدیم زمانہ میں زیادہ تر اخلاقی طور پر ہی سمجھی جاسکتی تھی۔ آج وہ ایک ٹھوس حقیقت کے طور پر قابل فہم بن گئی ہے۔ کیونکہ آج کا انسان جن بڑے بڑے منصوبوں کا تجربہ کر رہا ہے، وہ اس کے سواکسی اور طریقے سے مکمل ہی نہیں کئے جاسکتے۔
والٹر شیرا (WALTER M. SCHIRRA) ایک امریکی خلا باز ہے۔ وہ انسان سوار تین خلائی کشتیوں پر بالائی خلا کا سفر کر چکے ہیں۔ ستمبر ۱۹۷۲ء میں وہ ایک عالمی دورہ کے تحت ہندوستان آئے تھے۔ ایک تقریر میں انھوں نے امریکہ کی خلائی مہم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا:
THE TECHNOLOGY THAT ESSENTIALLY PERMITTED US TO GET INTO SPACE WAS A NIBBLING PROJECT. WE DID ONE THING AT A TIME --- WE TOOK SMALL STEPS INSTEAD OF GIANT STEPS. THE GIANT STEP WAS FINALLY TAKEN, OF COURSE. Link weekly (Delhi) October 22, 1972 وہ ٹیکنالوجی جس نے بنیادی طور پر ہم کو خلا میں داخل ہونے کا موقع دیا، وہ تھوڑا تھوڑا آگے بڑھنے کا منصوبہ تھا۔ ہم نے ایک وقت میں صرف ایک کام کیا۔ ہم نے چھوٹے چھوٹے اقدامات کئے ۔ ایسا نہیں کیا کہ یکبارگی بڑا قدم اٹھا دیں۔ بلاشبہ بڑا قدم اٹھایا گیا۔ مگر سب سے آخر میں۔
اسلام نے تدریجی عمل کی تلقین کی تھی۔ مگر شاعری اور تلوار کے زمانہ کا انسان اس کو پوری طرح سمجھ نہیں پایا تھا۔ سائنس کے دور میں اس قسم کا عمل ایک ایسی تکنیکل ضرورت بن چکا ہے جس کے بغیر کوئی نتیجہ خیز کام کیا ہی نہیں جا سکتا۔ آج کے سائنسی انسان کے لئے اسلام کا طریق عمل، پچھلے دور کے انسان کے مقابلہ میں، زیادہ بہتر طور پر قابل فہم بن چکا ہے۔
۱۹۶۵ کی بات ہے ۔ لکھنو میں میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی۔ انھوں نے فلسفہ میں ایم ۔ اے کیا تھا۔ اور برٹرینڈ رسل پر ریسرچ کی تھی۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ وہ پورے طور پر ملحد ہو چکے تھے۔ ایک روز گفتگو کے دوران انھوں نے کہا:
خدا کو ثابت کرنے کے لئے آپ کے پاس کیا شیئرن (معیار استدلال) کیا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1978 All issues