Al-Risala · March 1978 · page 42

فکری ڈھانچہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۸، صفحہ ۴۲

میری زبان سے نکلا ؛ " وہی کری ایٹر جن کو آپ کے پاس کوئی چیز ثابت کرنے کے لئے ہو۔ " ایک جملہ انھوں نے کہا۔ ایک جملہ میں نے۔ اور اس کے بعد گفتگو ختم ہوگئی۔ اس کی وجہ مخاطب کا سائنٹفک ذہن تھا۔ وہ جانتے تھے کہ سائنس نے جو دنیا دریافت کی ہے، وہ اتنی پیچیدہ ہے کہ کسی چیز پر بھی براہ راست دلیل قائم نہیں کی جاسکتی۔ ہمارے لئے بالواسطہ استدلال، بالفاظ دیگر استنباطی استدلال ، کے سوا چارہ نہیں اور خدا کے وجود کو ثابت کرنے میں عقل مشکلات صرف اس وقت تک ہیں جب تک براہ راست استدلال پر اصرار کیا جائے ۔ استنباطی استدلال کو جائز استدلال تسلیم کرنے کے بعد خدا کے وجود کو ثابت کرنا اتنا ہی یقینی بن جاتا ہے جتنا کسی دوسری معلوم چیز کے وجود کو ثابت کرنا۔

یہ چند مثالیں ہیں جن سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ موجودہ زمانہ کا ذہنی ڈھانچہ، ابتدائی زمین کی حد تک کتنا زیادہ اسلام کے موافق ہو چکا ہے۔ اسلام کا پیغام۔ آج کے انسان کے لئے، تاریخ کے تمام معلوم زمانوں سے زیادہ، قابل قبول ہو چکا ہے۔ آج ساری ضرورت صرف یہ ہے کہ اسلام کو ، تمام انسانی اضافوں سے الگ کر کے، اس کی بے آمیز شکل میں لوگوں کے سامنے رکھ دیا جائے۔ اس کے بعد اس واقعہ کو ظہور میں آنے سے کوئی چیز روک نہیں سکتی کہ "کوئی خیمہ یا مکان نہ بچے جہاں اسلام داخل نہ ہو گیا ہو " اور کوئی سینہ نہ ہو جس کے اندر اسلام کی فطری آواز نے اپنی جگہ نہ بنالی ہو۔

مسیح کی زبان سے آسمان کی بادشاہی اس بڑے جال کی مانند ہے جو دریا میں ڈالا گیا۔ اور اس نے ہر قسم کی مچھلیاں سمیٹ لیں۔ اور جب بھر گیا تو اسے کنارے پر کھینچ لائے۔ اور بیٹھ کر اچھی اچھی تو برتنوں میں جمع کرلیں اور جو خراب تھیں پھینک دیں۔ دنیا کے آخر میں ایسا ہی ہوگا۔ فرشتے نکلیں گے اور شریروں کو راست بازوں سے جدا کر دیں گے ۔ اور ان کو آگ کی بھٹی میں ڈال دیں گے۔ وہاں رونا اور دانت پیسنا ہوگا۔ متی ۱۳ : ۵۰ - ۴۷

‹ Previous page Next page › Contents of March 1978 All issues

Printed page