Al-Risala · March 1978 · page 33

ایک نفسیاتی کمزوری

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۸، صفحہ ۳۳

ایک نفسیاتی کمزوری

قرآن کی سورہ مریم میں بتایا گیا ہے کہ جہنم کے اور 19 فرشتے مقرر ہوں گے۔ جب یہ آیتیں اتری اور یہ درجہ کیسے مل سکتا ہے کہ خدا کی تجلیات اس پر نازل ہوں وہ اس مقام پر کھڑا کیا جائے کہ لوگوں کو امر حق سے آگاہ کرے انھوں نے پیشگی فرض کر لیا تھا کہ یہ ایک غیر اہم آدمی ہے، اس لئے اس کی ہر بات ان کو غیر اہم نظر آتی تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پڑھ کر مکہ والوں کوسنا یا تو مخالفین کو آپ کی دعوت کا مذاق اڑانے کا بہت اچھا بہانہ ہاتھ آگیا۔ ابوجہل نے اپنے ساتھیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: بھائیو! کیا تم اتنے گئے گزرے ہو کہ تم میں سے دس دس آدمی مل کر بھی دوزخ کے ایک ایک سپاہی سے نمٹ نہ لیں گے؟ بنی جمح کا ایک پہلوان بولا: "سترہ سے تو میں ایکسیڈنٹ لوں گا۔ باقی دو کو تم لوگ دیکھ لینا۔ " یہ لوگ اتنے بے وقوف نہ تھے کہ اس بات کو نہ جانیں کہ انیس کے معنی ہیں خدا کے انیس ۔ اور خدا کا تو ایک ہی سارے عالم کو زیر کرنے کے لئے کافی ہے۔ اصل بات یہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ اپنے ہی جیسا ایک انسان دیکھ رہے تھے۔ بلکہ دنیوی جاہ و مرتبہ میں آپ ان سے بھی بہت کم تھے۔ ایسی حالت میں ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ ان کے درمیان کا ایک معمولی انسان خدا کی طرف سے بول سکتا ہے۔ ایسا کہہ کر دراصل وہ رسول کا مذاق اڑا رہے تھے نہ خدا اور اس کے فرشتوں کا۔

انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ کسی بات کو اس کی اندرونی حقیقت کے اعتبار سے نہیں دیکھ پاتا۔ وہ حقیقت کو اس کے ظاہر کے پہلو سے جانچتا ہے۔ وہ "بات" کے بجائے بات کہنے والے کو دیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہیوں کے پیغام کی اہمیت ان کے مخالفین کی سمجھ میں نہ آسکی۔ نبی اپنے ظاہری حلیہ کے اعتبار سے ان کو ایک معمولی انسان نظر آتا تھا۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ایک معمولی انسان کو اس میں آپ کے لئے سبق ہے ہنری ہراس (۱۹۵۶-۱۸۸۸) ایک اسپینی مسیحی تھے ۔ وہ ۴۳ سال کی عمر میں ۱۰ نومبر ۱۹۲۲ کو بمبئی کے ساحل پر اتریے ۔ ہندوستان کی زمین نے انہیں متاثر کیا اور انھوں نے طے کر لیا کہ وہ اسی ملک میں رہ کر کام کریں گے ۔

فادر ہر اس (Fr HENRY HERAS) چند دن بعد سینٹ زیویرس کالج کے پرنسپل سے ملے ۔ وہ ایک تاریخ داں تھے ۔ اس لئے پرنسپل نے پوچھا ”آپ کون سی تاریخ پڑھانا پسند کریں گے ؟ “ فادر ہر اس نے فی الفور جواب دیا ” ہندوستانی تاریخ “ ۔ پرنسپل کا اگلا سوال تھا ” ہندوستانی تاریخ کے بارے میں آپ کا مطالعہ کیا ہے ؟ “ انھوں نے جواب دیا ” کچھ نہیں ! “ پھر آپ کیسے ہندوستانی تاریخ پڑھائیں گے ۔ فادر ہراس کا جواب تھا : I SHALL STUDY IT ”میں ہندوستانی تاریخ کو پڑھ کر اپنے آپ کو تیار کر دوں گا پھر اس کو پڑھاؤں گا ! “ فادر ہراس نے ہندوستانی تاریخ کے مطالعہ میں اتنی زیادہ محنت کی کہ وہ سر جارج ور نا تھ سرکار اور ڈاکٹر سرینہہ نا تھ حسین کے درجہ کے مورخ بن گئے ۔ آج بمبئی میں ان کے نام پر تاریخی مطالعہ کا ایک بہت بڑا ادارہ قائم ہے جس کا نام ہے ۔ ہراس انسٹی ٹیوٹ ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1978 All issues

Printed page