Al-Risala · March 1978 · page 44

ایک نفسیاتی کمزوری

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۸، صفحہ ۴۴

ساڈھ کروڑ اپادھیای (سابق صدر جن سنگھ) کی موت پر فلک شگاف تبصرے کئے: مگر ایک تبصرہ ایسا تھا جس نے میرے سارے وجود کو جھنجھوڑ دیا۔ ؀ اپادھیای جب تک موجودہ دنیا میں تھے، انھوں نے قوم کے مسئلۂ کو اصل مسئلہ سمجھا" کہنے والے نے کہا " مگر اب موت کے بعد انھیں معلوم ہوا ہو گا کہ اصل مسئلہ خود اپنی ذات کا مسئلہ ہے ؟ یہ تبصرہ صرف مرنے والے کے اوپر نہیں بلکہ زندہ رہنے والوں کے لئے بھی ہے۔ وہ ہمارے اوپر تنقید ہے۔ کیونکہ اس زمین پر صرف مسلمان ہی ہیں، جو اس حقیقت کو جانتے ہیں۔ مگر انھوں نے دوسروں کو اس حقیقت سے آگاہ نہیں کیا۔ انھوں نے ماحول کے اندر اگر اپنا کوئی تعارف کرایا ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ وہ ایک قوم ہیں جو اپنے لئے کچھ حقوق کی طلب گار ہے۔ انھوں نے اب تک اپنا یہ تعارف پیش نہیں کیا ہے کہ وہ نبی آخرالزمان کی امت ہیں ان کے پاس حقیقت کا وہ علم ہر جو دوسروں کو حاصل نہیں۔

ہمارے ملک میں ہر روز جو سب سے بڑا واقعہ پیش آتا ہے، وہ یہ کہ یہاں بسنے والے انسانوں میں سے ایک لاکھ پچیس ہزار آدمی مرجاتے ہیں عام کوئی نہیں جانتا کہ موت کے فرشتے کل کے لئے جن ایک لاکھ پچیس ہزار انسانوں کی فہرست تیار کر رہے ہیں، اس میں ہمارے ملک کے باشندوں میں سے کس کس کا نام ہو۔ یہ سارے لوگ اس حالت میں موت کی طرف چلے جا رہے ہیں کہ انھیں کچھ نہیں معلوم کہ موت کے بعد کیا پیش آئے گا۔ اب چونکہ صرف مسلمان ہی وہ گروہ ہیں جن کے پاس حقیقت کا صحیح علم ہے، اس لئے ہماری ذمے داری بے حد شدید ہو جاتی ہے۔ اس ملک کی آبادی اگر ساٹھ کروڑ ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں ساٹھ کروڑ کام کرنے ہیں۔ ہمیں ساٹھ کروڑ انسانوں تک پہنچ کر خدا کا پیغام حق سنانا ہے۔ کیونکہ آج ہر انسان حقیقت سے غافل ہے۔ ہر آدمی اس کا حاجت مند ہے کہ اس کو دین حق کا پیغام پہنچایا جائے ۔ اس کو ان مسائل سے آگاہ کیا جائے جو مرنے کے بعد سامنے آنے والے ہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1978 All issues

Printed page