Al-Risala · March 1978 · page 35

ارتقار کا افسانہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۸، صفحہ ۳۵

ارتقار کا افسانہ

نظریہ ارتقار کے حامیوں نے بہت سے " قدیم انسان " دریافت کئے ہیں ، مثلاً پلٹ ڈاون میں ، نینڈرتھل میں ، پیکینگ میں ، جاوا میں وغیرہ۔ قدیم انسان کی یہ تمام صورتیں فاصل کی بنیاد پر بنائی گئی ہیں جو زمین میں کھدائی سے برآمد ہوئی ہیں۔ نظریہ ارتقار زندگی کی مختلف قسموں کے لئے جس عمل کو فرض کرتا ہے اس کے مطابق درمیانی انواع حیات (INTERMEDIATE SPECIES)

کا وجود بھی لازما ہونا چاہئے ۔ مگر ایسی انواع ابھی تک گم شدہ کڑیوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ڈارون نے تسلیم کیا تھا کہ درمیانی انواع حیات کے نمونے ہمارے پاس موجود نہیں ہیں۔ تاہم ڈارون کے بعد قدیم فاصل کی بنیاد پر بہت سی عجیب و غریب انسانی شکلیں بنائی گئی ہیں ۔ اور یہ فرض کیا جاتا ہے کہ یہ انسانی سلسلہ حیات کی قدیم ارتقائی کڑیاں ہیں۔

انھیں میں سے ایک نینڈرتھل میں ہے جو جرمنی کی نینڈرنامی وادی کی طرف منسوب ہے۔ اس قسم کی ہڈیاں اور ڈھانچے ۷۰ ھ سے ۱۹۰۰ تک ایشیا ، یورپ ، شمالی افریقہ کے تقریباً ۵۰ مقامات پر ملے۔ پروفیسر بول (MARCELLIN BOULE) نے ان ہڈیوں کا مشاہدہ کرکے ان کی جو تعمیر کی ، اس کو عام طور پر تسلیم کرتے ہوئے اس کو ابتدائی انسانی سلسلے کی ایک کڑی مان لیا گیا ـــــــــ گم شدہ کڑیوں میں سے ایک کڑی معلوم کرلی گئی ۔

نینڈرتھل مین کی تصویریں کتابوں میں چھپنے لگیں۔ حتیٰ کہ اس کے مجبے بن گئے۔ مگر بعد کو علمائے حیاتیات نے جو تحقیقات کیں، اس نئے بتا یا کہ پروفیسرول نے اندازہ کہنے میں کئی اہم غلطیاں کی تھیں۔ 1955 میں ولیم اسٹرا بس (جانسن ہاپکنس یونیورسٹی اور اے ۔ جے ۔ اسی کیو (لندن) نے نینڈرتھل مین کے بنائے گئے ڈھانچہ کا از سر نو جائزہ لیا۔ یہ رپورٹ مکمل طور پر کوارٹرلی ریویو میں چھپ چکی ہے:

QUARTERLY REVIEW OF BIOLOGY XXXIII (1957)

محققین کہتے ہیں کہ نینڈرتھل مین کا ڈھانچہ جو 50-40 سال کی عمر کے ایک آدمی کا ہے وہ گھٹیا کی بیماری سے بوسیدہ ہو گیا تھا۔ اس بیماری نے آدمی کے نچلے جبڑے اور اس کی گردن اور پورے ڈھانچہ کو متاثر کیا۔ اس آدمی کے سر کا آگے کی طرف جھکاؤ جو پروفیسرول نے نوٹ کیا تھا، وہ کم از کم جزوی طور پر، اس کی بیماری کے سبب سے تھا۔ حقیقتاً اس آدمی کا ڈھانچہ ویسا ہی تھا جیسا آج ایک اوسط فرانسیسی آدمی کا ڈھانچہ۔ حتیٰ کہ جدید تحقیقات نے یہ بھی بتایا ہے کہ نینڈرتھل کے دماغ کا سائز بھی تقریباً وہی تھا جو آج ایک (BRAIN) اوسط یورپی شخص کا ہوتا ہے۔ اس کے بال درست کرکے اور موجودہ لباس پہنا کر کھڑا کر دیا جائے تو آج کے مہذب انسان سے وہ کچھ بھی مختلف معلوم نہیں ہو گا۔ حال میں نینڈرتھل مین کے جو مزید فاصل ملے ہیں وہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ وہ ابتدائی کڑی نہیں بلکہ آج کے ایک انسان کی مانند تھا۔ نینڈرتھل انسان ، لفظ انسان کے تمام مفہوم کے اعتبار سے مکمل انسان تھا۔ F. CLARE HOWELL, EARLY MAN. NEW YORK, TIME-LIFE BOOKS, 1968 PP 123-24

‹ Previous page Next page › Contents of March 1978 All issues

Printed page