ما بعد الطبیعیات کی طرف
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۸، صفحہ ۳۶
ما بعد الطبیعیات کی طرف
انسانی دماغ کی بناوٹ دس سال پہلے تک ، ایک راز سمجھی جاتی تھی۔ آج سائنس دانوں کا خیال ہے کہ وہ راز کے اوپر سے بہت سے پردے ہٹانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ مگر انسانی دماغ کے بارے میں معلومات میں جو اضافہ ہوا ہے، وہ حیرت انگیز طور پر قدیم مفروضات کی تردید کر رہا ہے۔ پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ ، انسانی دماغ میوسین دور (MIOCENE PERIOD) کے بعد چودہ ملین سال میں ترقی کر کے موجودہ حالت تک وہ "موڈ" کو کس طرح بدلتا ہے۔ اس سلسلے میں تحقیق کرنے والوں نے دواؤں کے ذریعہ مصنوعی طور پر موڈ کو بدلنے کی کوشش کی۔ یہ دوائیں مختلف کیفیات کو گھٹا بڑھا سکتی تھیں یا ان کو بدل سکتی تھیں ۔ مثلاً نیند کو کم یا زیادہ کرنا، جنسی جذبات کو متاثر کرنا، حافظہ کی مدت کو مختصر یا لمبا کرنا ، احساس حسن کو گھٹانا بڑھانا وغیرہ۔
مگر اس میدان میں تحقیق کرنے والے اپنی تحقیق کے نتائج سے کسی قدر گھبرا رہے ہیں ۔ کیوں کہ انہیں معلوم نہیں کہ وہ حقیقت کس منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں: THE RESEARCHERS ARE SLIGHTLY چاہیے ، مردہ شدہ معلومات جہاں ہیں وہ انسان کی سابقہ قیاس کے برعکس، اتنا زیادہ پیچیدہ ہے کہ مذکورہ مدت اس کے ارتقار کے لئے کسی طرح کافی نہیں ہو سکتی۔
انسانی دماغ کے سلسلے میں ایک سوال یہ ہے کہ شاید وہ مابعدالطبیعیات کی دنیا میں داخل ہوۓ ہیں ۔ ٹائمز آف انڈیا ۲۸ جنوری ۱۹۷۰ء ۔۔۔ مگر اس کے لئے لوگ چندہ نہیں دیں گے پھلواری شریف کے چند نوجوان جلسہ سیرت کا پروگرام بنا رہے تھے۔ ان کا جذبہ یہ تھا کہ پھلواری شریف ایک تاریخی بستی ہے۔ لہذا جلسہ بھی تاریخی نوعیت کا ہونا چاہئے ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کتنا روپیہ خرچ کرو گے ۔ جواب ملاکہ چار یا پانچ ہزار روپیہ چندہ ہو جائے گا ۔ میں نے کہا بلا شبہ ہمارے لئے یہ بات باعث فخر ہے کہ ہم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت ہیں ۔ ان کی محبت ہماری سب سے قیمتی متاع ہے۔ لیکن ان کی یاد کو تازہ رکھنے ، ان کے اسوہ حسنہ کو عام کرنے کے لئے جلسہ تپا کیا ضروری ہے ، پھلواری شریف میں کوئی اچھی لائبریری نہیں۔ اتنی رقم سے ایک اچھی لائبریری کی بنیاد ڈالی جا سکتی ہے جس میں سیرت پر اعلیٰ درجہ کا لٹریچر ہو اور اسی لائبریری میں تعلیم بالغان کا ایک مرکز بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔ جلسہ کی تقریر ہوا میں تحلیل ہو جائے گی ، لائبریری کا فیض پورے سال بھر لوگوں کو پہنچتار ہے گا۔ نوجوان میری بات سن کر قائل ہو گئے ۔ انھوں نے کہا لیکن لائبریری کے لئے لوگ چندہ نہیں دیں گے جب کہ جلسہ کے لئے آسانی سے رقم فراہم ہو جائے گی۔ (النقيب ۱۶ جنوری ۱۹۷۸ء)
‹ Previous page Next page › Contents of March 1978 All issues