Al-Risala · March 1978 · page 45

وحید الدین

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۸، صفحہ ۴۵

پوٹاشیم سائانائڈ (POTASSIUM CYANIDE) ایک سفید چمک دار کیمیکل ہے۔ وہ مختلف صنعتوں میں استعمال ہوتا ہے، اگر چہ سستے سوڈیم سائانائڈ کی دریافت نے اس کے صنعتی استعمال کو کم کر دیا ہے۔ اسی کے ساتھ پوٹاشیم سائانائڈ ایک انتہائی طاقت ور زہر ہے۔ اس کا کھانا فی الفور موت کا باعث ہو جاتا ہے۔ سائنس دانوں کو خیال ہوا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ اس کا مزا کیا ہے۔ مزہ معلوم ہونے کے لئے اس کو کھانا ضروری تھا۔ بالفاظ دیگر کوئی شخص اپنے کو ہلاک کر کے ہی دوسروں کو خبر دے سکتا تھا کہ اس کا مزہ کیسا ہے۔ ایک شخص نے طے کیا کہ وہ اس خدمت کو انجام دے گا۔ اس نے ایک ہاتھ میں پوٹاشیم سائانائڈ لیا اور دوسرے ہاتھ میں قلم۔ زہر کو کھانے کے بعد اس نے اس کا مزا لکھنا چاہا۔ اس نے صرف ایک لفظ ایس (S) لکھا تھا کہ اس کا خاتمہ ہو گیا۔ انگریزی میں اس کے حرف سے دو لفظ بنتے ہیں۔ ایک سوئیٹ (میٹھا) دوسرا سالٹ (نمکین)۔ دوبارہ سوال پیدا ہوا کہ مرنے والے کی مراد میٹھے سے تھی یا نمکین سے۔

اب ایک اور شخص اٹھا۔ اس نے کہا کہ میں زہر کو کھاؤں گا اور "ایس" کو چھوڑ کر اگلا حرف لکھوں گا۔ اگر ڈبلیو (W) لکھوں تو سوئیٹ سمجھنا اور اگر اے (A) لکھوں تو سالٹ۔ اس نے دوسری بار زہر کو چکھ کر قلم کو حرکت دی۔ حرف "اے" لکھ کر اس کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ اس طرح دنیا نہ جانا کہ پوٹاشیم سائانائڈ کا مزہ نمکین ہے۔ اس قصہ کو یہاں نقل کرنے کا مقصد ایک واقعہ کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ میر البڑ کا ظفر الاسلام خاں (پیدائش ۱۹۳۸) جو اس وقت لیبیا میں ہے، اس نے مجھے خط لکھا کہ میرا ارادہ ہے کہ لیبیا کا کام چھوڑ کر ہندوستان واپس آجاؤں اور ماہنامہ الرسالہ اور الدار العلیبیہ کے تحت آپ احیائے اسلام کی جو کوششیں کر رہے ہیں، اس میں آپ کی مدد کروں۔ میں نے جواب میں مذکورہ بالا قصہ کا حوالہ دیتے ہوئے ظفر الاسلام کو لکھا: تمھارے باپ نے ایک بار "پوٹاشیم سائانائڈ" کھا کر "ایس" لکھا ہے۔ اگر تم دوسری بار اس کو کھا کر اگلا حرف "اے" لکھنے والے بننا چاہتے ہو تو آجاؤ۔ "

اسلام کا احیار موجودہ زمانہ میں کچھ زندگیوں کی قیمت مانگتا ہے۔ جانوں کی نہیں، حوصلوں اور رضاؤں کی۔ "ظہور اسلام" اس امید میں شائع کی جا رہی ہے کہ وہ کچھ لوگوں کو اس قربانی کے لئے آمادہ کرے گی، اگر چہ اس قسم کی امید قائم کرنا بڑی جرات کا کام ہے۔ حوصلوں اور تمناؤں کی قربانی، جانوں کی قربانی کے برعکس، ہمیشہ کمیاب تھی اور اب تو شاید وہ نایاب کے درجہ میں پہنچ چکی ہے۔

وحید الدین

‹ Previous page Next page › Contents of March 1978 All issues

Printed page