Al-Risala · April 1978 · page 9

اس قسم کی باتوں سے صحیح ذہن نہیں پیدا ہو سکتا

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۹

جو لوگ ان سطروں کو پڑھ رہے ہیں، ان میں سے ہر شخص پچاس برس بعد مرچکا ہوگا۔ اس کے بعد اس کا ٹھکانا یا تو جنت ہے یا جہنم ۔ میں چاہتا ہوں کہ ان کو جنت میں پہنچانے کی کوشش کروں۔ کیسی عجیب ہے یہ بات۔ اور اس سے بھی زیادہ عجیب یہ ہے کہ یہ بات ایک کھلاڑی کی زبان سے آج کی دنیا کو سننے کو ملتی ہے۔ مسلمان کی حیثیت سے ہماری اصل ذمہ داری یہ ہے کہ ہم دنیا کو آنے والے دن کی چیتاونی دیں۔ ہر دن لاکھوں انسان زمین پر مررہے ہیں۔ مگر ان کو نہیں معلوم کہ وہ مرکر کہاں جارہے ہیں۔ پیغمبر کے ذریعہ اللہ نے اس راز کو کھولا ہے اور پیغمبر کے بعد ہمارے اوپر یہ ذمہ داری ڈالی ہے کہ ہم اس سب سے بڑی حقیقت سے اہل عالم کو باخبر کریں تا کہ لوگ زندگی کے اگلے مرحلہ میں داخل ہونے سے پہلے اس کے مسائل سے واقف ہوجائیں اور ابھی سے اس کی تیاری شروع کر دیں۔

کیسی عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ میں بے شمار مسلم تحریکیں ساری دنیا میں کام کر رہی ہیں۔ مگر کوئی ایسی تحریک نہیں جو فی الواقع اس لئے اٹھی ہو کہ دنیا والوں کو اس آنے والے ہولناک دن سے آگاہ کرے۔

یاد رکھئے اللہ کی نظر میں ہماری قیمت صرف اس وقت ہے جب کہ ہم اس کا مطلوبہ کام کر رہے ہوں۔ اگر ہم اس کام کو انجام نہ دیں تو اللہ کی نظر میں ہماری کوئی قیمت نہیں۔ خدا کو نہ ہماری کراماتوں کی ضرورت ہے اور نہ ہمارے انقلابی نعروں کی۔ اس کو نہ شان دار عمارتیں درکار ہیں اور نہ جگمگاتے ہوئے پنڈال۔ اس کو تو صرف یہ مطلوب ہے کہ اس کے بندے اس سے باخبر ہوجائیں کہ ان کا رب بالآخر ان سے کیا معاملہ کرنے والا ہے۔ آدمی دن کی روشنی میں یہ سمجھ کر اپنا نظام بناتا ہے کہ تھوڑی دیر میں شام آنے والی ہے اور رات کو اس یقین کے ساتھ سوتا ہے کہ چند گھنٹوں کے بعد ضرور صبح ہوگی ۔ مگر آخرت کی دنیا کا کسی کو ہوش نہیں۔ کوئی نہیں جو موت کو اس طرح دیکھ رہا ہو جس طرح دن کا ایک مسافر آنے والی شام کو دیکھتا ہے۔ اور ایسے لوگ تو معدوم کے درجے میں ہیں جو موت کے دوسری طرف جہنم کو بھڑکتا ہوا دیکھ رہے ہوں۔ ہر آدمی اس طرح زندگی گزار رہا ہے جیسے موت بھی دوسروں کے لئے ہے اور جہنم بھی دوسروں کے لئے

‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues

Printed page