اس قسم کی باتوں سے صحیح ذہن نہیں پیدا ہو سکتا
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۱۰
سب سے پہلا کام جذباتیت کو ختم کرنا اور لوگوں کو باشعور بنانا ہے ایک بادشاہ اور اس کے وزیر میں بحث ہوئی۔
سوال یہ تھا کہ طبیعت غالب آتی ہے یا تربیت۔ بادشاہ کا خیال تھا کہ تربیت کے ذریعہ کسی کے اندر نئے اوصاف پیدا کئے جا سکتے ہیں۔ جب کہ وزیر کا کہنا یہ تھا کہ تربیت سے کسی کو بدلا نہیں جا سکتا۔ کسی کی جو اصل طبیعت ہے، وہ بالآخر غالب آکر رہتی ہے۔
بادشاہ نے طے کیا کہ وہ وزیر کو غلط ثابت کرے۔ اس نے محل کے خادموں کو حکم دیا کہ دو بلیاں حاصل کریں اور ان کو اس بات کی تربیت دیں کہ وہ اپنے دونوں اگلے پیروں میں مشعل لے کر کھڑی رہیں ۔ تربیت شروع ہوگئی۔ یہاں تک کہ کچھ عرصہ کی مشق کے بعد دو بلیاں ایسی تیار کرلی گئیں، جو مشعل لے کر کھڑی ہو سکتی تھیں۔ بادشاہ کو جب بلیوں کے تربیت یافتہ ہونے کا پورا اطمینان ہو گیا تو اس نے ایک تاریخ مقرر کرکے اعلان کر دیا کہ اس روز خصوصی دربار ہوگا، وزیر کو بھی اس میں شریک ہونے کا حکم دے دیا گیا۔ مقررہ تاریخ پر سارے لوگ جمع ہوئے۔ دربار سجایا گیا۔ اس کے بعد دونوں تربیت یافتہ بلیاں لائی گئیں۔ ان کو بادشاہ کے تخت کے دونوں طرف اس طرح رکھا گیا کہ دونوں بالکل ساکت و صامت دو مشعلوں کو لئے ہوئے دونوں طرف کھڑی ہوئی تھیں۔ اب بادشاہ وزیر کی طرف مخاطب ہوا۔ "دیکھو، یہ بلیاں کیا بتا رہی ہیں ۔ طبیعت غالب آتی ہے یا تربیت"۔ وزیر کو بادشاہ کی ان تیاریوں کا حال پہلے سے معلوم تھا۔ چنانچہ دربار کے لئے آتے ہوئے اس نے ایک چوہا اپنی جیب میں رکھ لیا تھا۔ بادشاہ اپنے قریہ چیلنج کو پیش کر چکا تو وزیر بولا "حضور جان بخشی ہو تو میں اس کا جواب دوں"۔ بادشاہ نے پورے اعتماد کے ساتھ کہا، ہاں اپنا جواب پیش کرو۔ تم کو پوری اجازت ہے "۔ اس کے بعد وزیر بلیوں کے قریب آیا اور جیب سے چوہا نکال کر ان کے سامنے ڈال دیا۔ چو ہا سامنے آتے ہی جو واقعہ ہوا وہ یہ کہ دونوں بلیاں مشعل کو پھینک کر چوہے کے اوپر جھپٹ پڑیں۔ بادشاہ کے چیلنج کا یہ اتنا مؤثر جواب تھا کہ اس کے بعد وزیر کو یہ کہنے کی ضرورت بھی نہ تھی کہ " حضور دیکھ لیجئے تربیت کے اوپر طبیعت غالب آگئی"۔
تمثیل، کم از کم جزوی طور پر، ان ملکوں پر صادق آتی ہے جہاں اسلامی جماعتیں عوامی ووٹ کی طاقت سے اسلام کو غالب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ جماعتیں عوام کو اسلام کے نام پر اکٹھا کرتی ہیں اور اس کے بعد ایک شاطر سیاست داں ایک" شوشہ " چھوڑ دیتا ہے اور معاشارے اسلامی ووٹر اسلامی کیمپ کو چھوڑ کر ان کی طرف دوڑتے ہیں۔ بلی کی تربیت کی ساری کوشش " چو ہے" کو دیکھتے ہی ختم ہوجاتی ہے یہ اسلامی جماعتیں اسلامی حکومت قائم کرنے کے نام پر میدان سیاست میں کودتی ہیں۔ برسوں تک پریس اور پلیٹ فارم کے ذریعہ ملک کی رائے عامہ کو اسلام کے حق میں ہموار کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ " خلاف کعبہ " اور "شوکت اسلام " کے نام پر ہونے والے جلوسوں میں لوگ جوق در جوق شرکت کرتے ہیں۔ " اسلام زندہ باد " کے نعروں سے فضا گونج اٹھتی ہے۔ اسلام کی یہ دھوم دیکھ کر اسلامی قائدین کو گمان ہونے لگتا ہے کہ 99 فی صد لوگ
‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues