خارجی ذمہ داری
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۱۵
مقامِ ظلم پر، مگر انسان اکثر ٹھیک اسی مقام پر نا کام ہو جاتا ہے جہاں اس کو سب سے زیادہ کامیابی کا ثبوت دینا چاہیے خیر خواہی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ آپ لوگوں تک حق کا پیغام پہنچائیں۔
رسول کی حیثیت داعی الی اللہ کی ہے۔ امتِ مسلمہ بھی آپ کی تبعیت میں ذمہ داری کے اسی مقام پر کھڑی کی گئی ہے (یوسف۔ ۱۰۸) دنیا میں رسول اور آپ کے متبعین کا رشتہ، دوسرے انسانوں سے، داعی اور مدعو کا رشتہ ہے ۔ آخرت میں یہ رشتہ شاہد اور مشہود کی صورت میں ظاہر ہو گا جب کہ رسول اور آپ کے پیرو خدا کی عدالت میں کھڑے ہو کر لوگوں کے بارے میں گواہی دیں گے کہ انھوں نے دعوت الی اللہ کا جواب کس طرح دیا تھا۔ اللہ کے ان گواہوں کو آخرت میں سب سے اونچے مقام پر کھڑا کیا جائے گا جہاں سے وہ تمام اقوام کو دیکھیں اور ان کے بارے میں اپنا بیان دیں۔ اسی لئے قرآن میں ان کو بلند یوں والے (اصحابِ اعراف) کہا گیا ہے۔ ابن جریر اور ابن المنذر نے جابر بن عبد اللہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میں اور میری امت والے اونچے ٹیلوں پر سر ہوں گے اور اوپر سے مخلوق کو دیکھ رہے ہوں گے۔ پیغمبر اسلام پر چوں کہ نبوت کا سلسلہ ختم ہونے والا تھا، اس لئے آپ اپنی امت پر گواہ بنائے گئے۔ آپ کے بعد آپ کی امت کی یہ ذمہ داری قرار پائی کہ وہ قیامت تک تمام انسانوں کو اوپر گواہ بنے رہیں۔ آخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اس ذمہ داری کا اتنا زیادہ احساس رہتا تھا کہ ہر وقت اس کے لئے دکھی رہتے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس غم میں آپ اپنے کو ہلاک کر ڈالیں گے، لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ الا تَكُوْنُوا مُؤْمِنِينَ شعرای - ۳ شاید تم اس غم میں اپنے کو ہلاک کر ڈالو گے کہ لوگ ایمان نہیں لاتے مکہ کے آخری دور میں جب کہ حالات انتہائی سخت ہو چکے تھے ایک طرف مخالفین کا غصہ اتنا بڑھ گیا تھا کہ ایک بار جب کہ ابو بکر صدیق خانہ کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے، مخالفین نے گھیر کر آپ کو مار نا شروع کیا۔ کسی دیکھنے والے نے پوچھا یہ کون ہے، مارنے والوں میں سے ایک شخص نے غصہ میں کہا : مجنون بن ابی قحافہ (ابو قحافہ کا پاگل لڑکا)۔ ایک طرف یہ تھا، دوسری طرف مسلمانوں کی معاشیات مکمل طور پر بر باد کر دی گئی تھیں۔ زندگی کے تمام راستے ان کے لئے بند ہو چکے تھے۔ اس کے باوجود صبر و برداشت کے سوا کسی اور چیز کی اجازت نہ تھی۔ اس زمانہ میں وہ آیت اتری جو سورہ ہود میں شامل ہے فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا تم اور تمھارے ساتھی حکم کے مطابق قائم رہو اور حد سے انَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ۔ وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا نہ بڑھو۔ خدا دیکھ رہا ہے جو کچھ تم کرتے ہو، اور ظالموں کی فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ هود - ۱۱۳ طرف مت جھکو ورنہ آگ تم کو پکڑلے گی۔
ان حالات میں یہ حکم کتنا سخت تھا ، اس کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ آپ نے فرمایا:
شَيَّتَنِي هُود و اخواتها سورہ ہود اور اس کی ساتھ کی سورتوں نے مجھ کو بوڑھا کر دیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues