اسلام اور سیاست
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۱۶
اللہ تعالیٰ کا وعوہ ہے وہ اسلام کے ماننے والوں کو اسلام کے مخالفین کے اوپر غالب کرے گا۔ یہ وعدہ جو قرآن میں بار بار دہرایا گیا ہے، شہادت کے معاملہ ہی کا ایک پہلو ہے۔ دنیا میں اہل اسلام کا غیر اہل اسلام پر غلبہ در اصل آخرت میں ان کے اصحابِ اعراف (بلند یوں والے) ہونے کا ایک دنیوی اظہار ہے۔ جب کبھی خدا پرستوں کا کوئی گروہ اپنے دعوتی عمل سے شاہدِ آخرت بننے کا استحقاق حاصل کرتا ہے، وہ خدا کی سنت کے مطابق ”فوقیت“ کا درجہ پالیتا ہے۔ دوسری قوموں کے اوپر اس کی یہ فوقیت آخرت میں یقینی طور پر ظاہر ہو گی۔ اور جب خدا چاہتا ہے دنیا میں بھی اس کے لئے فوقیت کا فیصلہ فرما دیتا ہے (بقرہ - ۲۱۲)
اس سے معلوم ہوا کہ غلبہ اسلام کا راستہ دعوتِ اسلام کی سمت سے ہو کر جاتا ہے۔ دعوتی عمل کے بغیر محض سیاسی کارروائیوں کے ذریعہ اسلام کو غالب کرنے کی کوشش ایک ایسا منصوبہ ہے جو خدا کی اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔
اسلام اور سیاست
سیاست اسلامی تحریک کا اشو نہیں، اسلامی تحریک کا ایک مرحلہ ہے جو کبھی پیش آتا ہے اور کبھی پیش نہیں آتا۔ اسلام کا خطاب انسان سے ہوتا ہے نہ کہ کسی سیاسی ادارہ سے۔ اس کا نشانہ ”قلب“ کو بدلنا ہوتا ہے نہ کہ نظام کو بدلنا۔ اسلام کا ایک علم بردار آخرت کی نجات کا پیغام لے کر اٹھتا ہے نہ کہ اقتصادی اور سیاسی نجات کا پیغام۔ یہ کہنا کہ «اسلام کا مقصد فرد سے لے کر سماج تک کی اصلاح ہے» اسی طرح ایک بے معنی جملہ ہے جیسے کوئی باغبان یہ کہے کہ ”میرا مقصد بیج سے لے کر پتی تک کو وجود میں لانا ہے کہ اس قسم کا کوئی جملہ باغبانی کی مکمل تشریح“ نہیں ہے، بلکہ باغبانی کی صرف ناقص تشریح ہے۔ کیوں کہ باغ در اصل بیج کے تحقق کا دوسرا نام ہے نہ کہ بیج سے لے کر پتی تک کی کسی مکمل جد و جہد کا۔ اس قسم کے مکمل منصوبے اینٹ پتھروں کی تعمیر کے لئے ہوتے ہیں نہ کہ زندہ ہستیوں کی تعمیر کے لئے۔ ایک بندۂ مومن کو جو چیز بے چین کرتی ہے، وہ یہ احہیں۔ اس ہے کہ اسے مرنا ہے اور مرنے کے بعد اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ یہ احساس، عین اپنی نوعیت کے اعتبار سے، ایک ذاتی احساس ہے۔ وہ شخصی انقلاب کا پرو گرام ہے ۔ مگر زندگی کی سرگرمیاں، یا تمام انسانی تعلقات اشخاص ہی کے عمل کا دوسرا نام ہیں ساس لئے کسی معاشرہ میں جب اشخاص کی قابلِ لحاظ تعداد آخرت کو سامنے رکھ کر زندگی گزارنے لگے تو جگہ جگہ ان کا سابقہ دوسرے انسانوں سے پیش آتا ہے۔ یہ سابقہ کبھی اعتقادی بحثوں تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیم کی مثال میں ہوا، کبھی وقت کے حکمران اور مدعو کے درمیان جزوی مصالحت ہو جاتی ہے جیسا کہ حضرت یوسف کی مثال سے معلوم ہوتا ہے۔ کبھی مدعو کی ضد دائی اور مدعو کے درمیان سیاسی ٹکراؤ کی صورت پیدا کردیتی ہے جیسا کہ نبی آخر الزمان کی مثال میں نظر آتا ہے۔ تاہم ایسا بھی نہیں ہوتا کہ دائی سیاسی انقلاب یا حکومتی تغیر کو اپنی دعوت کا اشو بنائے ۔ سیاست اور حکومت کا انقلاب بطور ایک امکانی نتیجہ کے اسلامی تحریک کا جزو بن سکتا ہے۔ مگر دہ تحریک کا ابتدائی اور بنیادی پرو گرام کبھی نہیں ہوتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues