Al-Risala · April 1978 · page 11

اس قسم کی باتوں سے صحیح ذہن نہیں پیدا ہو سکتا

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۱۱

ان کے ساتھ ہیں۔ یہاں تک کہ ان میں سے کسی اسلامی قائد کو یہ پر فخر الفاظ کہنے کا موقع مل جاتا ہے کہ "اب ہمارا نقطہ نظر بہتر طور پر سمجھا جانے لگا ہے۔ ملک میں ہماری اکثریت ہے ۔ ہر فرد اس بات سے اتفاق کرتا ہے کہ اسلامی نظام قائم کیا جائے (ذکری ، دسمبر ۷ ۱۹) ۔ اس " صد فی صد" اکثریت کے باوجود جب الیکشن ہوتا ہے تو یہ اسلامی جماعتیں بری طرح ہار جاتی ہیں ، حتیٰ کہ ان کے امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہو جاتی ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ جب ملک کے " صد فی صد "

لوگ اسلامی جماعتوں کے حلقہ متفقین میں شامل ہیں تو وہ لوگ کہاں سے آتے ہیں جو " دھاندلی " کرکے ان کو شکست فاش دے دیتے ہیں ۔

جواب یہ ہے کہ یہ وہی عوام ہیں جن کے " ہر فرد " کو اپنا حامی سمجھ لیا گیا ہے مسلم ملکوں ، خاص طور پر برصغیر ہند کے مسلمان اتنے زیادہ جذباتی ہیں کہ کسی بھی تماشے کی بات کے پیچھے نہایت آسانی سے دوڑ پڑتے ہیں۔ فروری ۷۱ء میں محمد علی کے مقابلہ میں لیون اسپینکس کی جیت عیسائی حلقوں کے لئے زبردست خوشی کا باعث تھی۔ مگر یہ ناقابل تصور ہے کہ اُس کے بعد اسپینکس کو امریکہ کی طرف سے کسی ملک کا سفیر بنا دیا جائے ۔ جب کہ محمد علی کو شکست کے باوجود ، بنگلہ دیش کی حکومت کی غیر معمولی مہمانی کا شرف حاصل ہوا اور ۲۲ فروری کو ڈھاکہ میں اعلان کیا گیا کہ محمد علی ، امریکہ میں حکومت بنگلہ دیش کے اعزازی نمائندہ (کونسل جنرل) ہوں گے اور ان کی کار اورمان کے مکان پر بنگلہ دیش کا سرکاری جھنڈ الہرائے گا۔ امریکہ میں کھیل کا ایک ہیرو میدان سیاست کا ہیرو نہیں بنایا جاسکتا۔ جب کہ برصغیر ہند میں ایک فلم ایکٹر وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے اور ایک مکاباز سرکاری سفیر:

مسلم ملکوں کے عوام کی یہی جذباتیت اور بے شعوری ہے جس نے ان کو فقرہ باز سیاست کے لئے زرخیز زمین بنا دیا ہے۔ اسلام کے نعرہ میں روایتی اور جذباتی کشش انھیں اپنی طرف کھینچتی ہے۔ مگر اس کشش کی کوئی زیادہ گہری بنیاد نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی شاطر سیاستداں میدان میں آتا ہے اور کوئی ایسا پُر فریب شوشہ چھوڑتا ہے جس میں وقتی دل چسپی کا سامان ہو تو وہ نہایت آسانی سے اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ اس وقت ان ملکوں کے عوام کا ٹھیک وہی حال ہوتا ہے جو تربیت یافتہ بلیوں کے سامنے چوہا چھوڑنے کاہی تھا۔ اس طرح اسلامی سیاست کا نتیجہ عملاً اس کے سوا اور کچھ نہیں نکلتا کہ ایک "مسٹر شاطر" کی جگہ دوسرے مسٹر شاطر اقتدار کی کرسی پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ "مولانا اسلام" کی محرومی "انقلاب" کے بعد بھی اسی طرح باقی رہتی ہے جیسے وہ انقلاب سے پہلے تھی۔ ہندوستان میں لوک سبھا کی میعاد میں دو بار ایک ایک سال کی توسیع کے بعد ۱۸ جنوری ۱۹۷۷ء کو جب وزیر اعظم اندرا گاندھی نے چھٹے عام الیکشن (اپریل ۱۹۷۷ء) کا اعلان کیا تو پاکستان میں مسٹر بھٹو کو موقع مل گیا کہ وہ اپنے ووٹروں سے یہ کہہ سکیں کہ ہندوستان نے ان کے زیر اثر لوک سبھا کا الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کیونکہ یہ حسن اتفاق مسٹر بھٹو کا ساتھ دے رہا تھا کہ انھوں نے ہندوستان سے کسی قدر پہلے اپنے ملک میں دوسرے عام الیکشن (مارچ ۱۹۷۷ء) کے انعقاد کا اعلان کر دیا تھا۔ یونیئر پر یہ خاص کہتا نے ان دنوں پاکستان کی سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا:

"مسٹر بھٹو کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنی شاہ ضرب سے

‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues

Printed page