Al-Risala · April 1978 · page 12

اس قسم کی باتوں سے صحیح ذہن نہیں پیدا ہو سکتا

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۱۲

فی الواقع برصغیر ہند کی قیادت چھین لی ہے۔ ان کا پراسرار استدلال یہ ہے کہ پاکستان میں الیکشن کے انعقاد کا اعلان کر کے انھوں نے مسز اندرا گاندھی کو مجبور کر دیا کہ وہ بھی ان کی پیروی کریں اس کے بعد ان کے لئے یہ مشکل نہ ہوگا کہ دوسرے معاملات میں بھی وہ ہندوستان کو آمادہ کر سکیں کہ وہ پاکستان کا لحاظ کرے “۔

(انڈین ایکسپریس 11فروری1977)

اسی قسم کے شوشے تھے جنھوں نے پاکستان کے پچھلے دو الیکشنوں میں مسٹر بھٹو کو کامیاب کیا، اندر اگر پاکستان میں دوبارہ الیکشن ہوں تو اسی طرح کوئی ”مسٹر بھٹو“ دوبارہ شوشے چھوڑ کر یقینی طور پر ووٹروں کو اپنی طرف متوجہ کرلے گا اور ”مولانا اسلام“ حیرت کے ساتھ دیکھیں گے کہ ان کا بیلٹ بکس خالی پڑا ہوا ہے۔ غلطی پر غلطی یہ ہے کہ یہ اسلامی جماعتیں مسئلہ کو گہرائی سے نہ دیکھ کر فوراً یہ کہہ دیتی ہیں کہ ہماری شکست اس لئے ہوئی کہ ”فریق ثانی نے دھاندلی کی تھی“۔ یہ بات خالص منطقی طور پر صحیح ہونے کے باوجود الکثنی سیاست کے سلسلے میں بالکل بے معنی ہے۔ دھاندلی اگر شکست و فتح کے لئے اتنی ہی مؤثر ہے تو سوال یہ ہے کہ شیخ مجیب الرحمٰن کے مقابلہ (دسمبر ۱۹۷۰ء) میں یحییٰ حکومت ساری دھاندلیوں کے باوجود کیوں ہار گئی۔ اور اندرا گاندھی کی بے مثال دھاندلیوں کے باوجود جنتا پارٹی کو کیوں کامیابی (اپریل ۱۹۷۷ء) حاصل ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ”دھاندلی“ کا لفظ بول کر اپنی شکست کی توجیہہ کرتے ہیں، وہ صرف یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ دو میں سے کسی ایک دیوالیہ پن کی سرحد تک پہنچ گئے ہیں۔ سیاسی تدبر کا دیوالیہ پن یا اخلاص کا۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلامی جماعتوں کی یہ باتیں اس قدر خالی از معنی ہیں کہ اگر منطقی اعتراض سے بچنے کے لئے ان کو " سیاسی جھوٹ " نہ کہا جائے تو اس انتہائی لا حاصل سیاسی مشغلہ کے بارے میں کم از کم یہ تو یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ان پر انگریزی کی یہ کہاوت پوری طرح صادق آتی ہے:

FOOLS RUSH IN WHERE ANGELS FEAR TO TREAD نادان لوگ وہاں جاگھستے ہیں جہاں فرشتے قدم رکھنے سے گھبراتے ہیں۔

ایسی سیاست جو ذرائع و وسائل کی بربادی کے ہم معنی ہو۔ جو اہل ملک کی منفی جذباتیت میں اضافہ کرے، جو بار بار ایسے نا کام ہنگامے کھڑے کرے جن سے قدیم روائتیں ٹوٹ جائیں اور نئی صالح روائتیں قائم نہ ہوں، جو بے شمار اقتصادی اور سماجی نقصانات کے بعد عملاً صرف یہ نتیجہ دکھائے کہ ایک ظالم حکمراں کی جگہ دوسرا اس سے ظالم تر حکمراں تخت اقتدار پر قبضہ کر لے، حتی کہ جو اپنے " اسلامی محاذ " کو مضبوط بنانے کے لئے تخریبی عناصر کو اس طرح ابھارے کہ وہ زندہ ہو کر خود مسلم ملک کے ٹکڑے کر ڈالیں ایسی سیاست کو کم سے کم جو نام دیا جا سکتا ہے وہ یہی ہے۔

اعلان

الرسالہ ماہ جنوری ۱۹۷۷ء کے شمارئے قیمت درکار ہیں۔ جو لوگ فراہم کر سکیں مطلع فرمائیں۔ منیجر

‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues

Printed page