Al-Risala · April 1978 · page 13

علمِ کلام کی حقیقت

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۱۳

علمِ کلام کی حقیقت

ابو الہذیل العلاف نویں صدی عیسوی کا ایک متکلم تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے ہاتھ پر تین ہزار آدمیوں نے اسلام قبول کیا۔ ابو الہذیل کا کہنا تھا کہ صفت کسی طرح ذات کی محمول نہیں ہو سکتی، صفت یا تو عین ذات ہے یا غیر ذات۔ وہ آخرت میں کسی مادی زندگی کا قائل نہ تھا۔ کیونکہ مادی یا جسمانی زندگی کے لئے حرکت ضروری ہے اور "حرکت" کی ایک ابتدا ہے اور ہر ابتدا اپنی انتہا پر پہنچ کر ختم ہو جاتی ہے"__ مذہب کی تعلیمات کو قدیم فلسفہ کی اصطلاحوں میں سمجھنے کی ان کوششوں نے ہمارے متکلمین کو عجیب و غریب قسم کی بے فائدہ موشگافیوں میں الجھا دیا۔ علمِ کلام، فلسفہ و منطق کے بجائے اگر قرآنی بر ہانیات (بالفاظِ دیگر حقائقِ کون) کی بنیاد پر وضع کیا جاتا تو علمِ کلام اس الہیاتی استدلال کا علم ہوتا جس کو قرآن میں "حجتِ ابراہیم" کہا گیا ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر نبی کو کوئی ایسی چیز دی جاتی تھی جس سے وہ اپنی مخاطب قوم پر اپنی صداقت کو مدلل کر سکے۔ مختلف انبیاء کو اس سلسلے میں مختلف چیزیں دی گئیں جو ان کے اپنے حالات کے لحاظ سے انھیں درکار تھیں :

تلک الرسل فضلنا بعضہم علیٰ بعض منہم یہ پیغمبر کہ ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فوقیت من کلم اللہ ورفع بعضہم درجات وآتینا بخشی ہے۔ کوئی ان میں ہے کہ اللہ نے اس سے عیسیٰ بن مریم البینات وأیدناہ بروح کلام کیا اور بعض کے درجے بلند کیے اور ہم نے القدس (بقرہ - ۲۵۳) عیسیٰ بن مریم کو کھلی نشانیاں دیں اور روح القدس سے ان کی تائید کی۔

حضرت ابراہیم کو اس مقصد کے لیے جو چیز دی گئی وہ حجت عقلی تھی۔ اگرچہ یہ استعداد ہر نبی کے اندر موجود تھی مگر آپ کو خصوصی طور پر اس کا فیضان ہوا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو خاص طور پر آپ کی طرف منسوب فرمایا۔ ارشاد ہوا ہے:

‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues

Printed page