Al-Risala · April 1978 · page 14

علمِ کلام کی حقیقت

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۱۴

وَتِلْكَ حجتنا آتیناہا ابراہیم علی قومہ اور یہ ہماری دلیل ہے کہ ہم نے ابراہیم کو اس (انعام - ۸۳) کی قوم کے مقابلے میں دی۔

قرآن میں حجت ابراہیم کے دو واقعات بصراحت مذکور ہیں۔ ایک، قوم کی ستارہ پرستی پر آپ کا اعتَرَض۔ دوسری، بادشاہ وقت (نمرود) سے آپ کی گفتگو۔ میں یہاں دوسری حجت کو نقل کرتا ہوں :

الم ترا الی الذی حاج ابراہیم فی ربہ ان کیا تو نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیم آتاہ اللہ الملک۔ اذ قال ابراہیم ربی الذی سے بحث کی اپنے رب کے بارے میں، اس یحیی و میت قال انا أحیی و امیت قال ابراہیم واسطے کہ اللہ نے اس کو سلطنت دی تھی۔ جب فان اللہ یاتی بالشمس من المشرق فات بها ابراہیم نے کہا کہ میرا رب وہ ہے جو جلاتا ہے اور من المغرب فبہت الذی کفر مارتا ہے، بولا کہ میں جلاتا ہوں اور مارتا ہوں۔ پھر ابراہیم نے کہا اللہ سورج کو مشرق سے لاتا ( بقرہ - ۲۵۸ ) ہے تو اس کو مغرب سے لادے، اس پر وہ منکر ہو چکا ہو گیا۔

اس مثال میں مخاطب نے پیغمبر سے حجت کی ہے یعنی وہ اس دعوے کے لیے دلیل کا مطالبہ کرتا ہے جو دونوں کے درمیان زیر بحث ہے۔ سوال یہ تھا کہ کسی کو قابل بندگی ہونے کا حق کس بنیاد پر ملتا ہے۔ مخاطب کا دعویٰ تھا کہ یہ معیار مقتدر اعلیٰ ہونا ہے اور چونکہ وہ ملک کا مقتدر اعلیٰ ہے، اس لیے وہ بندگی کا مستحق ہے۔ حضرت ابراہیم نے عقلی استدلال کے ذریعے ثابت کیا کہ زمین و آسمان کے حقیقی اقتدار کا مالک بادشاہ نہیں خدا ہے۔ آپ کا استدلال اتنا قوی تھا کہ مخاطب مبہوت ہو کر رہ گیا۔

اس مثال سے چند باتیں معلوم ہوتی ہیں :

۱۔ جب مخاطب عقلی دلیل مانگے تو دعوت کا حق ادا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے سامنے عقلی دلیل پیش کی جائے۔

۲۔ یہ عقلی استدلال اس معیار استدلال کے مطابق ہونا چاہیے جو خود مخاطب نے

‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues

Printed page