Al-Risala · April 1978 · page 15

علمِ کلام کی حقیقت

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۱۵

پیش کیا ہو۔

۳۔ استدلال اتنا تیہی ہو کہ مخاطب اپنے کو دلیل سے عاجز سمجھنے لگے جس کا نفسیاتی نام مبہوت ہونا ہے۔

یہی علم کلام ہے۔ علم کلام کا مقصد بنیادی طور پر یہ ہے کہ مخاطب کے پیش کردہ معیار استدلال کے مطابق اپنی دعوت کو مدلل کیا جائے ۔ مخاطب جن اصطلاحوں میں بات کو سمجھنا چاہتا ہے، انھیں اصطلاحوں میں اس کو سمجھایا جائے اور اس کے مانوس فکری ڈھانچے کے مطابق اس کے لیے دین کو قابل فہم بنایا جائے۔

دین کو پوری طرح ماننے کے لیے” ایمان“ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ ایمان کی تعریف یہ ہے کہ وہ داخل القبلب ایمان (حجرات۔ ۱۴) ہو۔ یہ ایمان کسی کے دل میں اُترنے کے لیے جس راستے سے گزرتا ہے‘ وہ عقل کا راستہ ہے۔ عقل داخلہ ایمان کا دروازہ ہے۔ جب تک ایمان کسی کے قلب میں جاگزیں نہ ہو، اس وقت تک سوال یہ رہتا ہے کہ عقل کے دروازے میں کون سا قفل لگا ہوا ہے اور وہ کس کنجی سے کھل سکتا ہے۔ چونکہ قفل متعدد ہو سکتے ہیں، اس لیے اس پہلے مرحلے کے لیے کنجیاں بھی متعدد درکار ہوتی ہیں۔ مگر جب دروازہ کھل جائے تو اس کے بعد سوال کئی نہیں رہتے بلکہ صرف ایک بن جاتا ہے۔ جس طرح خدا ایک ہے، اسی طرح انسان کی فطرت صحیحہ بھی ایک ہے۔ داخل القلب ایمان حاصل ہونا گویا فطرت صحیحہ کی وحدت کا کائنات کی وحدت سے مربوط ہو جانا ہے۔ وہی وہ چیز ہے جس کو مذہب کی اصطلاح میں تعلق باللہ کا حصول کہا جاتا ہے۔ تعلق باللہ بلا تشبیہ اسی قسم کا ایک واقعہ ہے جیسے میرے کمرے کے لب اور پاور ہاؤس کے درمیان بجلی کے رشتے کا قائم ہو جانا۔ اس طرح کا تعلق باطنی طور پر ہمیشہ صرف ایک معنی رکھے گا اور وہ ہے بجلی کی رو “ مگر اس بہاؤ کو دو طرفہ قائم کرنے کے لیے سوچ مختلف حالات میں مختلف ہو سکتے ہیں۔

معلوم ہوا کہ علم کلام اصلاً معرفت الہی کا علم نہیں ہے بلکہ اثبات الہی کا علم ہے۔ اثبات و استدلال کے طریقے ہر دور میں جُدا گانہ ہو سکتے ہیں مگر معرفت کا علم ہر دور میں یکساں رہے گا کیونکہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues

Printed page