Al-Risala · April 1978 · page 16

۲۔ اتمامِ حجت

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۱۶

عقلِ انسانی ایسا کرسکتی ہے کہ اپنے دروازے کھولنے اور بند کرنے کے لیے نئے نئے تالوں اور کنجیوں کا تجربہ کرے۔ مگر خدا کے یہاں اس قسم کی تبدیلی کا کوئی سوال نہیں۔ خدا اپنی ذات میں ایک ازلی اور ابدی حقیقت ہے۔ اسی طرح فطرتِ انسانی کا اصل جوہر جس کے تاروں کے ذریعے خدا اور بندے کا تعلق قائم ہوتا ہے، وہ بھی ایک مستقل اور غیر تغیر پذیر حقیقت ہے۔ اس لیے تعددِ کلام کی ضرورت صرف اس وقت تک رہتی ہے جب تک فطرت صحیح بیدار نہ ہوئی ہو۔ جب فطرت بیدار ہو جائے اور دنیاءِ حقیقت میں بندے اور خدا کا تعلق اپنی اصل حیثیت میں قائم ہو جائے، اس وقت وحدتِ کلام تعددِ کلام کی جگہ لے لیتی ہے۔

علمِ کلام کی ضرورت کے دو اور پہلو ہیں :

۱۔ ذہنی غلبہ کی فضا پیدا کرنا۔

۲۔ اتمامِ حجت

اول الذکر پہلو کا مطلب یہ ہے کہ دین کی علمی نمائندگی کے نتیجے میں عمومی طور پر ایسی ذہنی فضا بن جائے کہ دین اور خدا کی بات ہلکی بات نہ رہے بلکہ بھاری بھرکم بات بن جائے۔

ذہنی غلبہ کی یہ فضا اسلام دو طریقوں سے حاصل کرتا ہے۔ ایک سیاسی قوت۔ دوسرے عقلی استدلال۔ اگر کسی علاقے میں اسلام کا سیاسی اقتدار قائم ہو جائے تو خواہ حکومت مذہبی معاملات میں غیر جانب دار ہی کیوں نہ ہو، اسلام کے حق میں ذہنی غلبہ کی ایک فضا خود بخود قائم ہو جاتی ہے۔ ہندوستان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ آٹھ نو سو برس کی حکومت کے باوجود یہاں کے مسلم حکمرانوں نے کبھی اشاعتِ دین کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ اس غلطی کے لیے میں انھیں معذور قرار دینے کا وکیل نہیں بن سکتا۔ تاہم یہ واقعہ ہے کہ مسلم اقتدار نے عمومی غلبہ کی جو فضا پیدا کی، وہ تبلیغِ دین کی غیر سرکاری کوششوں میں مددگار ثابت ہوئی۔ جب اس علاقے کو خراسان اور ماوراء النہر کے سیاسی حوصلہ مندوں نے فتح کیا تو اسی کے ساتھ بخارا، بلخ، سمرقند، خوارزم، عراق اور ایران کے علماء قطار در قطار یہاں

‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues

Printed page