Al-Risala · April 1978 · page 17

۲۔ اتمامِ حجت

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۱۷

آنا شروع ہونے۔ ابتدا از ملتان اور لاہور کا علاقے ان کے مرکز بنے۔ اس کے بعد جب ۷ء میں سلطان شمس الدین التمش نے دہلی کو دارالسلطنت بنایا تو ہر طرف سے علما اسمٹ سمٹ کر دہلی میں جمع ہونے لگے۔ اس طرح حکومت کے براہ راست تعاون کے بغیر مگر اسلام کے سیاسی غلبے کی عمومی فضا میں تبلیغ دین اور اشاعت اسلام کے وہ سارے کارنامے انجام پائے جن کا نتیجہ آج ہم اس برصغیر میں ۲۰ کروڑ مسلمانوں کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ ذہنی غلبے کی اس فضا کے لیے سیاسی غلبہ ناگزیر نہیں، وہ عقلی استدلال کے ذریعے بھی پیدا ہوتی ہے۔ حتی کہ عقلی مبنیادوں پر بنی ذہنی فضا اتنی وسیع اور قوی شکل اختیار کر سکتی ہے کہ سیاسی غلبے سے پیدا ہونے والی فضا پر بھی بھاری ثابت ہو۔ یہاں مثال کے طور پر مغربی قوموں کی موجودہ سائنس کا نام لیا جا سکتا ہے۔ مغربی قوموں کا سیاسی اقتدار آج ایشیا اور افریقہ سے تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ مگر مغربی قوموں نے دماغی علوم میں جو برتری حاصل کی ہے، اس کا یہ نتیجہ ہے کہ آج بھی آزاد شدہ ممالک پر ان کا مکمل ذہنی غلبہ قائم ہے۔ کسی چیز یا کسی نظریے کا " فارن " ہونا اس کی بہتری کا ایسا ثبوت ہے جو بلا بحث تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ یہ ایک مسلمہ بن گیا ہے کہ جو چیز مغرب سے آئے وہ ضرور معیاری ہوگی۔ حالانکہ صرف چند سو برس پہلے مغربی سائنس کی یہ حیثیت نہیں تھی۔ کیمسٹری' قدیم طرز کے کیمیادانوں کے ہاتھ میں تانبے کو سونا بنانے کا ایک خبط تھا اور فلکیات پرانے نجومیوں کے ہاں لوگوں کو مستقبل کی بات بتا کر ان کو لوٹنے کی ایک بدنام تعبیر تھی۔ ذہنی مرعوبیت اور تصوراتی غلبے کی یہ فضا جب کسی تحریک کے حق میں پیدا ہو جائے تو بہت سی مصنوعی اور غیر ضروری رکاوٹیں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں اور تحریک کی توسیع و ترقی کا کام ایک موافق فضا میں ہونے لگتا ہے۔ ذہنی غلبے کی فضا کی مثال پختہ سڑک کی ہے۔ اگر آپ اپنی گاڑی نا ہموار بیابان میں چلا رہے ہوں تو طرح طرح کی زحمتیں پیش آتی ہیں۔ اس کے برعکس اگر آپ کو ایک بنی بنائی پختہ سڑک مل جائے تو سفر نہایت تیزی اور آسانی سے ہونے لگے گا۔

علم کلام کا ایک کام اسی قسم کی ذہنی فضا پیدا کرنا ہے۔ علوم کا ایسا مطالعہ کہ وہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues

Printed page