۲۔ اتمامِ حجت
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۱۸
اسلامی عقائد کے مؤید نظر آتے ہیں۔ تاریخ کی ایسی نقشہ کشی جس میں اسلام اپنی داخلی جگہ پالے۔ حقائق کائنات کی ایسی تعبیر جس سے اسلام کی تصدیق و تصویب ہو۔ اسلامی صداقتوں کا ایسے انداز اور ایسے دلائل کے ساتھ اظہار جو وقت کے ذہن پر عظیم سوالیہ نشان بن کر مسلط ہو جائے۔ غرض برتر علمی تدوین اور اعلیٰ استدلال کے ذریعے لوگوں کے طرزِ فکر پر اس طرح چھا جانا کہ ان کی عقل کو نظر آنے لگے کہ اسلام کے سوا کوئی چیز حقیقت کے خانے میں بیٹھ ہی نہیں رہی ہے۔ جہاں اسلام کا احترام دلوں میں جگہ پا چکا ہو وہاں دعوتِ اسلام کا کام بہت آسان ہو جاتا ہے اور یہ ایک طاقتور علم کلام کا نہایت اہم فائدہ ہے۔
علم کلام کا ایک پہلو اتمام حجت ہے۔ اتمام حجت کے معنی ہیں ثبوت کو مکمل کرنا۔ استدلال کو آخری حد تک پورا کر دینا۔ یہ کام کیونکر ہوگا۔ اس کی صرف ایک شکل ہے ۔ وہ یہ کہ خود انسان کے پاس اور اس کے اپنے تجربے میں جانچنے پرکھنے کی جو صلاحیت ہے، اس کے اعتبار سے اپنے دعوے پر دلیل کو آخری حد تک پہنچنا دیا جائے۔ یہ صلاحیت عقل کہلاتی ہے۔ اس لیے اتمام حجت کے معنی ہیں۔ عقلی طور پر کسی کے لیے دین کی صداقت کو آخری حد تک ثابت شدہ بنا دینا۔ پچھلے زمانوں میں انسان کی عقل خارق عادت واقعات کو اپنے لیے آخری فیصلہ کن چیز سمجھتی تھی، اس لیے قدیم دور میں اکثر انبیائے اتمام حجت کے لیے خارق عادت معجزات پیش کیے۔ مگر آخری رسول کی بعثت کے بعد دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو رہی تھی جب کہ علم کو فیصلہ کن مقام ملنے والا تھا، اس لیے آپ کو کتابی معجزہ ۔ دیا گیا ، جو نہ صرف اپنی ابدی صداقت کی وجہ سے ممتاز ہے بلکہ ترقی یافتہ انسانیت کی عقل کے لیے حجت اور برہان بننے کا سارا سامان اپنے اندر رکھتا ہے۔
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر نبی جب آتا تو وہ اپنی قوم کی اپنی زبان میں خطاب کرتا۔ (وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومه ، (ابراهیم-۴) اس وقت تک کسی قوم کو منکر قرار دے کر اسے سزا نہیں دی جاتی جب تک پیغمبر کی دعوت کا اس تک پہنچا معلوم
‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues