Al-Risala · April 1978 · page 19

۲۔ اتمامِ حجت

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۱۹

اور ثابت نہ ہو۔ (لَّمْ يَكُنْ ربک مُہْلِكَ القریٰ بظلم و اھلها غافلون ، انعام - ۱۳۱) اتنی قوت و شدت سے دعوت پیش کی جاتی کہ مخاطب پکار اُٹھتا کہ تم نے تو اپنا سبق ہم خوب پڑھ پڑھ کر سنا دیا ہے۔ (... ولی قولوا درست، ، انعام-۱۳۱) نبوت کے لیے خصوصیت سے موزوں صلاحیتوں والی شخصیت کا انتخاب کیا جاتا۔ اَللہُ يصطفى من الملائكة رسلا ومن الناس ، حج75-)

یہ سب کیوں تھا۔ اسی لیے کہ دعوت کو پہنچانے کا وہ اعلیٰ ترین معیار حاصل ہو سکے جو مخاطب کے ذہن کے اعتبار سے اُس کے لیے آخری دلیل بن جائے۔ جب انکار تعقل سے محروم ہو چکا ہو اور ہٹ دھرمی کے سوا کوئی بنیاد اس کے پاس باقی نہ رہے۔ ظاہر ہے کہ انسان کے پاس سوچنے اور رائے قائم کرنے کی جو سب سے بڑی صلاحیت ہے وہ عقل ہی ہے۔ اس لیے انسان کا یہ جرم کہ ایک بات جو حق تھی، اس کو پوری طرح سمجھ لینے کے باوجود اس نے نہیں مانا، اسی وقت متحقق ہو سکتا ہے جب اس کے اپنے عقلی معیار کے مطابق اس حق کو ثابت کر دیا گیا ہو کسی اور معیار کے لحاظ سے کوئی بات خواہ کتنی ہی مسلم الثبوت کیوں نہ ہو۔ ایسے شخص کو مجرم قرار دینے کے لیے وہ کافی نہیں ہو سکتی جس نے اپنی عقل کی بساط کے مطابق اس کا برحق ہونا جان نہ لیا ہو۔ یہی چیز ہے جس کے لیے پیغمبر کُشتی لڑا جس کے لیے عصا کو سانپ کی شکل دی گئی، جس کے لیے حجت ابراہیمی ظاہر ہوئی۔ جس کے لیے قرآن کو معجزہ ادب کی شکل میں اُتارا گیا۔ دعوت کا یہ اہتمام کبھی صرف حجت کا اتمام ہو کر رہ جاتا ہے اور کبھی ذہن کے دروازے کھول دیتا ہے، جیسا کہ واقعات سے ثابت ہوتا ہے۔

اوپر کی گفتگو نے ہم کو جس مقام پر پہنچایا ہے، اس کے بعد یہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے کہ علمِ کلام کی اصل حقیقت کیا ہے۔ علمِ کلام کا کام اصلاً یہ نہیں ہے کہ دین کی حقیقت کو اس کے ابدی مفہوم میں بیان کرے ۔ بلکہ علم کلام یہ ہے کہ وہ لوگ جن کے لیے شخصی یا زمانی اسباب کی بنا پر دین، عقلی طور پر قابل فہم نہ رہا ہو، ان کے لیے دین کو عقلی اصطلاحوں میں قابلِ فہم بنا دے۔ یہ تعریف بلاشبہ ایسی نہیں ہے جو پوری صورت حال

‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues

Printed page