Al-Risala · April 1978 · page 20

۲۔ اتمامِ حجت

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۲۰

کا احاطہ کیے ہوئے ہو۔ دوسری چیزوں کی طرح یہاں بھی استثناء صرف ممکن بلکہ ناگزیر ہے۔ بنگر عمومی طور پر ایک قابل عمل توضیح کے اعتبار سے) یہ کہنا صحیح ہوگا کہ علم کلام کی حقیقت یہی ہے۔

علم کلام کی یہ تعریف اس کو بیک وقت دو چیزوں سے الگ کر دیتی ہے۔ اول فلسفہ سے جو حقیقت کو (اس کی ذاتی حیثیت میں، فی نفسہ متعین کرنا چاہتا ہے دوسرے معروضی سے جو کم از کم اپنے ادعا کے مطابق Objective Study حقیقت کی غیر جانبدارانہ تحقیق کا نام ہے۔ علم کلام کے نزدیک اسلام کی حیثیت خود ایک (دریافت شده مسلم الثبوت نظام فکر کی ہے۔ علم کلام کا کام صرف اس کی زمانی تشریح اور اس کو مخصوص حالات کے اعتبار سے مدلل کرنا ہے۔ اسی طرح نام نہاد معروضی طریق مطالعہ اختیار کرنے کا مطالبہ بھی علم کلام سے نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ علم کلام حقیقۃً کوئی علمی تلاش نہیں بلکہ تلاش میں کامیاب ہونے کے بعد ان عقلی دلائل کو مرتب شکل میں دوسرے کے سامنے پیش کرنا ہے جو خود پیش کرنے والے کے لیے متعلقہ سچائی پر مطمئن ہونے کا سبب بنے تھے۔ ” اسلام ایٹ دی کر اس روڈس کے مصنف کے سامنے غالباً یہی پہلو تھا جس کی بنا پر انھیں اپنی کتاب کے آغاز میں کہنا پڑا : It does not pretend to be a dispassionate survey of affairs: It is the state- ment of a case: the case of Islam versus Western civilization. یعنی اس کتاب میں ٹھنڈے دل سے غیر جانبدارانہ جائزے کا انداز اختیار نہیں کیا گیا ہے، اس کا انداز ایک مقدمہ جیسا ہے۔ اسلام کا مقدمہ مغربی تہذیب کے نام)

اسلامی دعوت بیک وقت اپنے ساتھ دو متضاد تقاضے رکھتی ہے۔ ایک طرف اس کو اس نازک مگر دائمی رشتہ کی وضاحت کرنی ہے جو بندے اور خدا کے درمیان اس وقت قائم ہوتا ہے جبکہ وہ ایمان کی دولت کو پا گیا ہو۔ یہ ایک ابدی آواز ہے جس کو ابدی الفاظ میں بیان کرنا ہے۔ دوسری طرف اسلامی دعوت کا ایک پہلو یہ ہے کہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues

Printed page