اسلام اور سیاست
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۱۷
ایک باغبان کبھی ایسا یں کرتا کہ یہ اعلان کر کے فضاؤں اور بادلوں سے لڑنے لگے کہ ”میرا مقصد ایک مکمل درخت کو وجود میں لانا ہے“۔ وہ زمین کو درست کرتا ہے اور بیج کی جڑ جمانے پر ساری طاقت صرف کر دیتا ہے۔ اسی طرح اسلام کا دامی اگر ایسا کرے کہ وہ ”مکمل انقلاب“ کا نعرہ لگا کر وقت کے حکمرانوں سے لڑنا شروع کر دے کیونکہ ”معاملات زندگی کی باگیں حکمران طبقہ کے ہاتھ میں ہوتی ہیں“۔ تو یہ ایک نادانی کا فعل ہوگا۔ اسلام کے نقطہ نظر سے ”معاملات کی باگیں“ دنیا طلبی اور نفس پرستی کے ہاتھ میں ہوتی ہیں نہ کہ کسی سیاسی ادارہ کے ہاتھ میں ، اسلام کی کامیابی یہ ہے کہ لوگ دنیا طلبی کو چھوڑ کر آخرت پسند بن جائیں ، وہ نفس پرستی کے بجائے خدا پرستی کو اپنا دین بنالیں۔ یہی اسلام کی سیاست بھی ہے اور غیر سیاست بھی۔ اگر یہ بات حاصل ہو جائے تو گویا سب کچھ حاصل ہو گیا۔ اگر یہ حاصل نہ ہو تو نہ "مکمل انقلاب" کا پروگرام لے کر سیاست کی چٹان سے ٹکر کھانا آتنا ہی بے معنی ہے جتنا ”مکمل درخت“ کا منصوبہ لے کر فضاؤں میں اچھل کود کرنا ۔ مقصد بعثت پیغمبر اسلام کی بعثت کا مقصد بھی ٹھیک وہی تھا جو دوسرے پیغمبروں کا تھا۔ سب کو ایک ہی دین دیا گیا۔ ان میں سے کسی کا مقصد نہ تو دوسرے سے مختلف تھا اور نہ ایسا ہوا کہ کسی کو ناقص اور کسی کو کامل دین دیا گیا ہو۔ تاہم ان میں بعض اضافی فرق تھے۔ اصل مشن کے ساتھ ہر ایک کو کوئی منفرد وظیفہ بھی عطا کیا گیا اور اس کے لحاظ سے اس کو ضروری اسباب دیے گئے ۔ حضرت ابراہیم تو توحید آخرت کے اعلان کے ساتھ اس پر بھی مامور تھے کہ صحرائے عرب میں پہنچ کر خدا کا پہلا گھر تعمیر کریں۔ حضرت موسیٰ کے ذمہ کام تھا کہ اپنے اصل فریضہ (اعلان حق) کے ساتھ بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر باہر لے جائیں۔ حضرت مسیح اپنی پیغمبرانہ ذمہ داری کے ساتھ نئی آخر الزماں کے مبشر نہ کہے گئے، وغیرہ پیغمبر اسلام کے معاملہ کی نوعیت بھی ٹھیک یہی ہے۔ آپ سے اللہ تعالیٰ کو اصلاً جو چیز مطلوب تھی ، وہ تو یہ تھی کہ وہ دنیا کے لئے منذر و مبشر بنیں۔ اسی کے ساتھ آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا منصوبہ یہ بھی تھا کہ خصوصی طبیعی مدد کے ذریعہ زمین پر اہل اسلام کی حکومت قائم کر دے تاکہ آخری کتاب کی حفاظت کا انتظام ہو سکے۔
اسلام کی جو تاریخ بنی، وہ پیغمبرانہ مشن کا اضافی جزو ہونے کے باوجود کوئی اتفاقی واقعہ نہ تھا۔ وہ بجائے خود مطلوب بھی تھا۔ مگر یہ مطلوبیت باعتبار وسیلہ تھی نہ کہ باعتبار مقصد ۔ اللہ تعالیٰ کو اپنی آخری کتاب کو محفوظ کرنا تھا۔ اس لئے ضروری تھا کہ قرآن کے ساتھ اقتدار کو جمع کیا جائے۔ اگر پچھلی آسمانی کتابوں کی طرح قرآن کے ساتھ اقتدار کو جمع نہ کیا گیا ہوتا تو ہزاروں برس کی پیغمبرانہ تاریخ کا تجربہ بتا رہا تھا کہ اس کا انجام بھی بالآخر وہی ہوگا جو پچھلی آسمانی کتابوں کا ہوا۔ اس مصلحت کے تحت اللہ تعالیٰ نے خصوصی فیصلہ کیا کہ وہ آخری شریعت کے ساتھ لازماً اقتدار کو بھی جمع کرے گا (الدین والسلطان تو آمان) خواہ یہ اجتماع شرک و کفر کے علم برداروں کو کتنا ہی ناگوار ہو (صف ۔ ۹ عرب میں جب اسلام کا غلبہ قائم ہو گیا تو سنہ میں یہ آیت اتری ۔
اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي (مائده - ۳) آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور
‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues