۲۔ اتمامِ حجت
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۲۱
(ذہنوں میں تقریب پیدا کی جائے) اور دین کو قابل فہم بنانے کے لیے اس کو مخاطب کے عقلی معیار کے مطابق ثابت کیا جائے۔ یہ دوسری چیز، اول الذکر کے برعکس، بڑی حد تک زمانی نوعیت کی حامل ہے۔ چونکہ انسان کا عقلی معیار اس کی معلومات کے تابع ہے اور یہ معلومات دن بدن بڑھتی اور بدلتی رہتی ہیں۔ اس لیے عقلی معیار بھی اس کے ساتھ تغیر و تبدل کا شکار ہوتا رہتا ہے۔ وقتی اصطلاحوں میں دائمی حقیقت کی تعبیر نہیں کی جاسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ امام رازی کی تفسیر کے فلسفیانہ اور طبیعیاتی مباحث آج بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں۔
بلاشبہ اسلامی دعوت میں ان دونوں پہلوؤں کی اہمیت ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ مستثنیٰ حالات کو چھوڑ کر دونوں میں سے کسی ایک کو دوسرے کا بدل نہیں بنایا جاسکتا۔ جب بھی ہم ایک کو دوسرے کی جگہ پر رکھیں گے ، بیشتر حالات میں کوئی ایک یا دونوں مقصد مجروح ہو جائیں گے۔ اس لیے عملی بات یہ ہے کہ دونوں کے درمیان تقسیم عمل کے اصول کو مان لیا جائے۔ تشریح دین کا علم مثبت دائرے کے لیے ہے اور علم کلام اس کے مقابلے میں دفاعی یا منفی دائرے میں اپنی خدمت انجام دیتا ہے۔ اول الذکر کا کام دین کو ایک مطلق صداقت کی حیثیت سے ظاہر کرنا ہے۔ جبکہ ثانی الذکر سے بنیادی طور پر جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ مخاطب کی ذہنی رکاوٹوں کو دور کرے تا کہ وہ اصل دعوت کو سمجھ سکے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ مثبت تعبیرات منفی استدلال کے لیے بالکل غیر مفید ہیں یا کہ منفی استدلال کا مثبت تعبیر کے لحاظ سے کوئی فائدہ نہیں۔ نازک علمی مسائل ، وہ بھی ایسے مسائل جن کا تعلق انسان کی نفسیات سے ہو، اس طرح کی مطلق تقسیم قبول نہیں کرتے ۔ دونوں مختلف پہلوؤں سے ایک دوسرے سے بندھے ہوئے ہیں اور اکثر حالات میں ایک دوسرے کے لیے معین و مددگار بھی۔ تاہم نوعیت کے فرق کو سمجھنے کے لیے دونوں کے درمیان اس قسم کی تقسیم ناگزیر ہے۔
یہیں سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ فلسفہ اور علم کلام دونوں ہم معنی الفاظ
‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues