۲۔ اتمامِ حجت
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۲۲
نہیں ہیں، جیسا کہ ماضی میں غلطی سے سمجھ لیا گیا تھا۔ ایک زمانے میں فلسفہ عام طور پر مذہب کے ایک شعبے کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔ اس زمانے میں فلسفہ کا کام زیادہ تر یہ تھا کہ مذہبی عقائد کو فلسفیانہ اصطلاحات میں بیان کر دیا جائے۔ یہ فلسفہ جب عباسی دور میں (ترجمہ ہو کر) مسلم سوسائٹی میں پھیلا تو ابتداءََ بہت سے لوگوں کو توحش ہوا۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ مذہب کے بالمقابل کوئی اور چیز ہے۔ بعد کو زیادہ تحقیق سے سمجھ میں آیا کہ زیادہ تر فرق صرف اندازِ اظہار کا ہے۔ ورنہ فلسفہ اور مذہب میں کوئی تضاد نہیں۔ چنانچہ فلسفہ میں تھوڑا سا رد و بدل کر کے اس کو مسلمان بنا لیا گیا اور اسی مسلمان فلسفے نے بالآخر علمِ کلام کی شکل اختیار کر لی۔
اس واقعے سے یہ فائدہ تو ہوا کہ فلسفہ اور مذہب دو متصادم چیزیں نہیں رہیں بلکہ فلسفہ خود مذہب کا خادم اور مؤید بن گیا مگر اس ترکیب نے علمِ کلام میں ایک غلطی بھی شامل کر دی۔ وہ یہ کہ علمِ کلام کے موضوعات وہی بن گُھسے جو خود فلسفہ کے موضوعات تھے۔ علامہ تفتازانی لکھتے ہیں :
ثم لما نقلت الفلسفة عن اليونانية الى پھر جب فلسفہ یونانی زبان سے عربی زبان میں العربية وخاض فيها الاسلاميون و منتقل ہوا اور مسلمان اس میں گھسے اور انھوں حاولوا الرد على الفلاسفة فيما خالفوا نے فلاسفہ کا ان مسائل میں رد کرنے کا ارادہ فيه الشريعة فخلطوا بالكلام كثيراً کیا جو شریعت کے خلاف تھے تو انھیں اپنی من الفلسفة ليحققوا مقاصدها بحث میں فلسفہ کا کافی حصہ لینا پڑا تاکہ وہ فلسفہ فيتمكنوا من ابطالها وهلم جرا الى ان کے اصل مسائل کو محقق کر دیں اور پھر ان کا غلط ادرجوا فيه معظم الطبيعيات والالهيات ہونا ثابت کر سکیں۔ یہاں تک کہ مسلمانوں نے فلسفہ وخاضوا الى الرياضيات حتى كاد لا يميز میں طبیعیات اور الہیات کا بھی بڑا حصہ لے لیا۔ عن الفلسفة لولا اشتماله على الالهیات اسی طرح مسلمان ریاضی کی طرف متوجہ ہوئے تو شرح العقائد النسفيه، صفحه ٦ اس میں ایسا گئے کہ اگر اس میں الہیات کا حصہ نہ ہوتا تو اس کو فلسفہ سے ممتاز کرنا دشوار ہو جاتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues