۲۔ اتمامِ حجت
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۲۳
فلسفہ کا کام اصلا حقیقت کی علمی دریافت تھا۔ نیز اپنی فطرت کے اعتبار سے وہ حقیقت کو اس کی آخری حدود تک متعین کرنا چاہتا تھا۔ جب دونوں علوم با ہم مخلوط ہوئے تو نتیجہ یہ ہوا کہ علم کلام نے بھی اپنے ذمہ یہی کام لے لیا اور یہ کوشش شروع کر دی کہ حقیقت کے بارے میں فلسفہ کے پیدا کردہ تمام سوالات کا جواب اس طرح دیا جائے کہ حقیقت اپنی آخری شکل میں متعین ہو کر سامنے آجاۓ۔
اسی غلطی کا نتیجہ تھا کہ ملت کے عام اور معروف عقائد کے بالمقابل عقائد کا ایک طویل مجموعہ تیار ہو گیا۔ یہ مجموعہ نہ صرف امت کے اصل عقائد پر اضافہ تھا بلکہ بہت سے پہلوؤں سے وہ قرآن وسنت کے اسلام سے ٹکرانے والا تھا۔ پھر جب متکلمین کے موضوعہ عقائد کے لوازم و نتائج پر نظر گئی تو معلوم ہوا کہ یہ شریعت سے الگ ایک شریعت ہے جس نے خدا کے قرآنی تصور تک کو بدل ڈالا ہے۔ یہی وہ صورت حال تھی جس نے متکلمین اور محدثین کے درمیان زبردست کش مکش پیدا کر دی اور وہ سارے ناخوشگوار واقعات وجود میں آئے جن کو ہم تاریخ میں دیکھتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ علم کلام کا کام اصلاً دفاعی ہے نہ کہ اثباتی۔ یعنی علم کلام کو یہ نہیں بتانا ہے کہ دین کیا ہے۔ اس کو صرف یہ کرنا ہے کہ دین کے خلاف جو علمی حملے یا اس کی راہ میں ذہنی رکاوٹیں ہیں، ان کا فکری سطح پر مقابلہ کر کے انھیں ختم کرنے کے دوسرے لفظوں میں علم کلام کا کام ذہنی میدان میں وہی ہے جو بدر وحنین کے معرکے میں تلوار کا۔ تلوار بلاشبہ اسلام کے دفاع کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ لیکن اگر تلوار کو توجیہہ دین کے مقام پر رکھ دیا جائے تو پھر وہ چیز وجود میں آتی ہے جس کو "بیلچہ پارٹی" کہا جاتا ہے۔ اسی طرح علم کلام اگر چہ اسلام کے دفاع کے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے لیکن اگر اس کو دین کی فلسفیانہ توجیہہ کے لیے استعمال کیا جانے لگے تو وہ چیز وجود میں آئے گی جس کو ایک مصنف نے "فنی مفروضات" کا نام دیا ہے اور جو مصنف مذکور کے الفاظ میں ایک ایسا اسلام ہے جس کو ملت کے عقائد سے ذرا تعلق نہیں۔ " مثال کے طور پر تفسیر بیضاوی کے آغاز میں "رحمان" کی حقیقت کی طویل بحث، جو صرف اس لیے
‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues