Al-Risala · April 1978 · page 24

Heaven and Hell are states, not localities.

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۲۴

پیدا ہوئی ہے کہ ذہن رحمانیت کو فلسفیانہ سوالات کی روشنی میں متعین کرنا چاہتا ہے۔ حالانکہ سادہ طور پر سمجھنے کے لیے صرف اتنی بات کافی ہے کہ ہمارے اعمال کی جو جزا خدا کی طرف سے ملتی ہے، اسے مجازاً رحمت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ قدیم فلسفہ کے اتباع میں متکلمین نے یہ نظریہ قائم کر لیا کہ عرض قائم بالغیر ہوتا ہے اور اس کا وجود آنی اور فانی ہے۔ اس فلسفیانہ مسئلے کو علم کلام میں شامل کرنے کی وجہ سے بہت سے غیر ضروری مسئلے پیدا ہو گئے۔ اس کی وجہ سے اعمال کے وزن کو سمجھنا نا ممکن ہو گیا۔ افعال کے صدور سے قبل استطاعت کا وجود محال قرار پایا۔ قیامت کے دن ہاتھ پاؤں کی شہادت نا قابل تصور ہو گئی۔ حدیث میں تھا کلمتان خفیفتان علی اللسان ثقیلتان فی المیزان، اس کی کوئی اصلیت باقی نہیں رہی۔ وغیرہ۔

علم کلام کو فلسفے سے مخلوط کرنے کی یہ غلطی اس طرح پھیلی کہ بعد کے لوگ بھی اپنے آپ کو اس سے بچانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ حتی کہ ڈاکٹر اقبال جب ”الہیات اسلامی کی تشکیل جدید“ کرنے بیٹھے تو وہ بھی اس میں مبتلا ہو گئے۔ مثلاً اسلام کا ایک عقیدہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد جنت اور جہنم ہے۔ اس عقیدے کے سلسلے میں بہت سے فلسفیانہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ سوال کہ جنت اور جہنم مادی ہیں یا غیر مادی۔ ڈاکٹر اقبال نے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی تو انھیں کہنا پڑا :

Heaven and Hell are states, not localities.

(جنت اور جہنم احوال ہیں، مقامات نہیں) یہ الفاظ ڈاکٹر اقبال کے قلم سے اس لیے نکلے کہ اس کے بغیر جنت اور جہنم کا عقیدہ ان کو فلسفے کے ڈھانچے میں بیٹھتا ہوا نظر نہیں آتا تھا۔ مگر عین اس وقت جب وہ سمجھ رہے تھے کہ دین کو فلسفے کے ڈھانچے کے اندر بٹھانے میں وہ کامیاب ہو چکے ہیں، دین کا اصل عقیدہ ان کے ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ اس کے برعکس اگر علم کلام کو وہ اپنی حدود میں رکھتے تو وہ صرف یہ ثابت کرنے پر قناعت کرتے کہ مرنے کے بعد بہر حال ایک ایسا انجام سامنے آنے والا ہے جو اپنی نوعیت میں ویسا ہی ہوگا جس کو مذہب نے انسانی الفاظ میں جنت اور جہنم سے تعبیر

‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues

Printed page