Al-Risala · April 1978 · page 25

میرالروایات

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۲۵

کیا ۔ باقی یہ سوال کہ وہ مادی ہے یا غیر مادی ، اس کا علم کلام سے تعلق نہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے فلسفے کی حد شروع ہو جاتی ہے۔

ایک چیز ہے دین کی واقعیت اور ایک چیز ہے دین کی نوعیت۔ جب علم کلام کو دفاعی مقصد تک محدود رکھا جائے تو اس کا کام ہوتا ہے دین کی واقعیت کو چیلنج کرنے والوں کے مقابلے میں دین کی واقعیت ثابت کرنا۔ اس کے برعکس جب علم کلام کو اثباتی مقصد کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ کلامی زبان میں دین کی حقیقی نوعیت کی تفصیل کر رہے ہیں۔ جبکہ خود دین میں اس طرح کی تفصیلات بیان نہیں کی گئی ہیں بلکہ صریح طور پر یہ کہا گیا ہے کہ اس قسم کی تفصیلات متعین کرنے کے پیچھے نہ پڑو: وسكت عن اشياء من غير نسیان اور اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کے بارے میں فلا تبحثوا عنها بغیر بھولے ہوئے سکوت اختیار کیا ہے تو اس کے بارے میں خوض نہ کرو۔

شاہ عبدالقادر صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے اسی بنیاد پر کہا تھا:

ابهموا ما ابهمه الله اللہ نے جس کو مبہم رکھا ہے تم بھی اس کو مبہم رکھو۔

میرالروایات

ظاہر ہے کہ جن باتوں کی حقیقت اللہ نے بیان نہ فرمائی ہو، اس کے متعلق آپ کا بیان لا محالہ انسانی علم کی بنیاد پر ہو گا۔ ایسی حالت میں آپ کے بیان کا دو میں سے کسی ایک غلطی کا شکار ہونا لازمی ہے۔ حقیقت کی تفصیلی نوعیت اگر انسان کے لیے ناقابلِ ادراک ہے اور اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اس سے سکوت اختیار فرمایا ہے، تو انسانی علم بھی اس کے ادراک سے ہمیشہ قاصر رہے گا۔ ایسی حالت میں مجرد علم انسانی کی بنیاد پر جو تشریح کی جائے گی وہ لازمی طور پر غلط ہوگی اور اگر بالفرض اس کو قابل ادراک مانا جائے، جب بھی اس معاملے میں، کم از کم موجودہ انسانی علم کوئی صحیح بنیاد فراہم کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتا کیونکہ یہ انسانی علم خود اپنے اعتراف کے مطابق ابھی ارتقائی مرحلے میں ہے۔ اس کو کسی بھی درجہ میں یہ دعوی نہیں ہے کہ وہ حقیقت کے آخری عرفان تک پہنچ گیا ہے۔ اس کا

‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues

Printed page