میرالروایات
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۲۶
مطلب یہ ہے کہ اگر ہم موجودہ انسانی علم کی بنیاد پر حقیقت انتقا یت کی تفصیلی نوعیت متعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ کوشش زمانی معیار کی روشنی میں دائمی حقیقت کو متعین کرنے کی کوشش ہوگی جو بالفرض آج غلط نظر نہ آئے ، جب بھی آئندہ یقینی طور پر غلط ثابت ہوگی۔ انسان کی تمام غور وفکر اپنی معلومات کے دائرے میں ہوتی ہے۔ معلومات کے باہر آدمی کوئی تصور قائم نہیں کر سکتا۔ انسان اپنے حواس کے ذریعہ معلومات اخذ کرتا ہے اور پھر عقل ان سے کلیات بناتی ہے اور انھیں کلیات کے بارے میں غور وفکر کرتی ہے۔ جو چیزیں ہمارے محسوسات سے باہر ہیں، ان کے معاملے میں وحی والہام کے بغیر مجرد عقل کام نہیں کر سکتی۔ متکلم کے لیے ضروری ہے کہ اس فرق کو واضح طور پر اپنے سامنے رکھے ورنہ وہ خود بھی غلط رائے قائم کرے گا اور دوسروں کو بھی غلطی میں مبتلا کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ منکرین نے روح (وحی) کی حقیقت کے بارے میں سوال کیا، اس کے جواب میں روح کی اصل حقیقت پر بحث نہیں چھیڑ دی گئی بلکہ یہ جواب دیا گیا : يَسْئَلُونَكَ عَنِ الرّوحِ قُلِ الرّوحُ مِنْ امر ربي وہ تجھ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں کہو کہ روح خدا کے حکم سے ہے اور تم کو بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔
وما اؤتيتم من العلم الا قليلا 1 - اس : ۸۵ علم کلام کی جس حد بندی کی ہم نے وکالت کی ہے۔ اس کے سلسلے میں یہ آیت بہت اہم بنیاد کا کام دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اس دائرہ فہم کے اندر رائے قائم کر سکتا ہے جو فطرت کی طرف سے اسے دیا گیا ہے۔ اس دائرے سے باہر جاکر رائے قائم کرنا اس کے لیے ممکن نہیں۔ اس لیے حقیقت پسندی یہ ہے کہ جو امور ہمارے دائرہ فہم کے اندر ہوں ، ان کے بارے میں آخری حدود تک جانے کی کوشش کریں۔ مگر جو امور عقل کے دائرے سے باہر ہوں ، ان میں مجمل اثبات پر قناعت کریں۔ قدیم زمانے میں یہ بات ممکن ہے صرف مذہبی عقیدہ نظر آتی ہو۔ مگر آج وہ سائنسی امر واقعہ بن چکی ہے۔ انیسویں صدی کی سائنس کے برعکس آج کی سائنس متفقہ طور پر یہ دعوی کر رہی ہے کہ حقیقت انتقایت انسانی عقل یا ریاضیاتی پیمائشوں سے باہر کی چیز ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues