Al-Risala · April 1978 · page 27

میرالروایات

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۲۷

اس کے بارے میں ہم یہی کر سکتے ہیں کہ بعض خارجی علامات کی بنا پر ایک قیاسی رائے قائم کریں۔ دوسرے لفظوں میں سائنس کا سفر ایک حد کے بعد اس مقام پر آجاتا ہے جہاں محل ایمان کے بغیر چارہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں جدید سائنس نے تقریباً وہی موقف اختیار کر لیا ہے جس کی طرف قرآن نے ڈیڑھ ہزار برس پہلے نشاندہی کی تھی۔ قرآن کی ایک اور آیت ہے :

ھوالذي انزل عليك الكتاب منه آيات اللہ نے تم پر کتاب اتاری جس کا ایک حصہ وہ محکمات هن ام الكتاب واخر متشابهات آیتیں ہیں جو محکم ہیں۔ یہ ام الكتاب ہیں۔ فاما الذين في قلوبهم زيغ فيتبعون دوسری آیتیں متشابہ ہیں۔ سو جن کے دل میں کجی ما تشا به منه ابتغاء الفتنة وابتغاء ہے وہ اس کے اس حصے کے پیچھے پڑجاتے ہیں تا ويله ۔ وما يعلم تا ويله الا اللہ جو متشابہ ہیں، فتنہ ڈھونڈنے کے لیے اور تاویل دا الراسخون في العلم يقولون آمنا به ڈھونڈنے کے لیے۔ حالانکہ ان کی تاویل اللہ كل من عند ربنا وما يذكر الا اولوالالباب کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور جو لوگ علم میں پختہ کار آل عمران ۔ ۷ ہیں، وہ یوں کہتے ہیں ہم اس پر اجمالاً یقین لائے۔

سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہے۔ اور نصیحت وہی قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے ذریعہ جو حقیقتیں انسان پر ظاہر کی گئی ہیں، وہ دو قسم کی ہیں۔ ایک وہ جن کو محکم الفاظ کی شکل میں بتایا گیا ہے۔ دوسرے وہ جن کا نزول تشبیہی الفاظ کے ذریعہ ہوا ہے۔ اول الذکر کا تعلق اس دنیا سے ہے جو پوری طرح ہماری عقل کی گرفت میں آتی ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں محکم بات بتا دی گئی۔ ثانی الذکر کا تعلق اس دنیا سے ہے جو براہ راست ہماری محدود عقل کی گرفت میں نہیں آسکتی۔ اس لیے ان کو تشبیہی الفاظ کے ذریعہ بتایا گیا۔ جیسے ایٹم کے نظام کو سمجھانے کے لیے شمسی نظام کی مثال دی جائے۔

محکم اور متشابہ کے فرق کو ربوا اور جنت و جہنم کی مثال سے سمجھایا جا سکتا ہے۔ رباد شو

‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues

Printed page