Al-Risala · April 1978 · page 28

میرالروایات

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۲۸

کی حرمت کا معاملہ انسانی دائرے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس لیے اس کی بحث میں یہ کوشش بالکل صحیح اور جائز ہوگی کہ اس کے نفع و ضرر کو آخری حد تک معلوم کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس میں ہم کو مثالوں کا سہارا لینے یا اجمالی عقیدے پر قناعت کرنے کی ضرورت نہیں۔ مگر جنت اور جہنم کا معاملہ ایک ایسی دنیا سے تعلق رکھتا ہے جس کو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا اور نہ کوئی زندہ آنکھ اسے دیکھ سکتی ہے۔ اس لیے اس کی بحث میں ہمیں اس پر اکتفا کرنا پڑے گا کہ مجرد اس کے امکانی وجود کو ثابت کرنے تک اپنی گفتگو کو محدود رکھیں ۔ اس کی تفصیلی نوعیت متعین کرنے کے چکر میں نہ پڑیں ۔ اگر ہم اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کرنے لگیں کہ جنت اور جہنم احوال ہیں یا مقامات ، تو یہ انسانی عقل کے دائرے سے باہر قدم رکھنا ہوگا۔ خوش قسمتی سے عصرِ حاضر کا سائنسی طرزِ فکر بعینہ یہی ہے۔ آج کا ایک سائنس دان یہ ثابت کرنے میں اپنا وقت صرف نہیں کرتا کہ مکان Space، خارجی چیز Objective ہے یا داخلی Subjective ۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے دائرہ امکان سے باہر ہے کہ اس کی حقیقی حیثیت متعین کر سکے۔ وہ " مکان " پر گفتگو کرتا ہے نہ اس پر کہ وہ خارجی ہے یا داخلی۔ اس قسم کے مسئلہ کو سائنس میں داخل کرنا سائنس کو فلسفہ بنا دینا ہے، بالکل اسی طرح جیسے قدیم متکلمین نے علم کلام کو فلسفہ بنا دیا تھا۔

اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا معاملہ متشابہات" کے قبیل سے ہے۔ یعنی انسان موجودہ عقل کے ساتھ چونکہ ان کو پوری طرح سمجھ نہیں سکتا ، اس لیے ان کو تشبیہی الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس لیے اس بحث میں متکلمین کی صرف وہ باتیں ٹھیک کہی جاسکتی ہیں جو وحی کے ظاہری الفاظ سے ماخوذ ہیں۔ جہاں انھوں نے ایسی باتیں کہی ہیں جن کی کوئی بنیاد وحی الہام میں نہیں ہے اور وہ محض عقل کی پیداوار ہیں۔ ان کی صداقت نہ صرف مشکوک قرار پاتی ہے بلکہ خود یہ امر مشتبہ ہے کہ اس ممنوعہ حد میں قدم رکھنا ان کے لیے جائز تھا یا نہیں۔ مثلاً اتنی بات تو یقینی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے بہت سی صفات ثابت کی ہیں۔ لیکن ان صفات کی کیفیت و نوعیت کہ وہ صفات حادث ہیں یا قدیم ہیں ، عین ذات ہیں

‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues

Printed page