Al-Risala · April 1978 · page 29

میرالروایات

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۲۹

یا غیر ذات ہیں، یا لا عین ولا غیر کی بحث، اس قسم کی تمام باتیں محض اپنی عقل سے نکالی ہوئی ہیں۔ ان کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ متکلمین نے یہاں علم کلام کے دائرہ سے باہر قدم رکھا ہے۔

البتہ اس میں بعض استثنائی صورتیں ہیں مثلاً چونکہ وحی کی بنا پر یہ معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات خود قدیم ہے اور اس کے سارے ذاتی کمالات بھی قدیم ہیں، لہٰذا جو لوگ صفات کو حادث کہتے ہیں ان کی غلطی یقینی ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ صفات الہی کو قدیم کہتے ہیں، اگرچہ مجرد عقل سے کہتے ہیں، ان کی رائے صحیح ہے۔ مگر صفات کا عین ذات ہونا یا غیر ذات ہونا، یا لا عین اور لا غیر کا نظریہ، یہ سب نہ مجرد عقل سے معلوم ہو سکتا ہے اور نہ وحی الہام اس بارے میں رہنمائی کرتے ہیں۔ لہٰذا اس قسم کی تشریحات میں اگر خوض نہ کیا جائے اور صفات الہی کے مجرد اثبات پر اکتفا کی جائے تو یہ زیادہ صحیح بات ہے اور یہی قرن اول کے لوگ کرتے تھے۔

یہ صحیح ہے کہ پھر بھی بعض پہلوؤں سے علم کلام کو ایسے الفاظ استعمال کرنے پڑیں گے جو اپنے اندر زمانی قدر رکھتے ہوں اور جن کے متعلق یہ امکان ہو کہ مستقبل میں وہ اپنی موجودہ قدر کھو سکتے ہیں۔ مگر اس اندیشہ کو ضرورۃً اس لیے گوارا کیا جائے گا کہ بوقت استدلال وہ بہر حال مخاطب کے اوپر حجت ہیں۔ اور جہاں تک آئندہ کا تعلق ہے، ان سے نفس دین میں کوئی خرابی واقع نہیں ہوتی۔

جب دین کی واقعیت ثابت کرنے کے لیے کسی خارجی مواد استدلال کو استعمال کیا گیا ہو تو اس بنا پر دین کی حقیقت پر کوئی حرف نہیں آتا کہ اس مواد کے کسی جزو نے بعد کے زمانے میں اپنا وزن کھو دیا ہے۔ ایسا کوئی واقعہ صرف مواد استدلال کو متاثر کرتا ہے نہ کہ موضوع استدلال کو۔ دین کی واقعیت اصولاً صرف اس وقت مشتبہ ہو سکتی ہے جبکہ مواد کی کمزوری ثابت ہونے کے بعد کوئی دوسری دلیل اس کی صحت کو ثابت کرنے کے لیے باقی نہ رہے۔ جبکہ تاریخ گواہی دیتی ہے کہ دین ایک دائمی اور قطعی صداقت ہے اور ہر زمانے میں اس کے حق میں استدلال کے لیے قوی سے قوی تر مواد حاصل ہوتا رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues

Printed page