میرالروایات
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۳۰
متکلمین کی محلہ بالا غلطی کا اعادہ منطق کے استعمال میں بھی ہوا، منطق میں جن طریقوں سے کسی چیز کے حق میں حجت قائم کی جاتی ہے اس کی چھ قسمیں بتائی گئی ہیں۔ ۔ برہان، جدل‘ سفسطہ، ،خطابت شعر، مغالطہ۔
برہان اس قیاس منطقی کو کہتے ہیں جس کے مقدمات یقینی طور پر صادق ہوں۔ جدل وہ قیاس ہے جس کے مقدمات اگر چہ مدعی کے نزدیک صادق نہ ہوں مگر خصم ان کو صادق مانتا ہو۔ ایسے مقدمات سے جو قیاس مرکب ہوتا ہے اس سے مقصود صرف خصم کو ساکت کرنا ہوتا ہے نہ کہ کسی بات کو ثابت کرنا۔ سفسطہ وہ قیاس ہے جس کے مقدمات صادق تو نہیں ہوتے لیکن بادی النظر میں صادق معلوم ہوتے ہیں۔ سفسطہ کے معنی ملمع کرنے کے ہیں۔ یعنی کا ذب مقدمات پر صدق کا ملمع کر دیا گیا ہو۔ خطابت وہ قیاس ہے جو ایسے مقدمات سے مرکب ہوتا ہے جن کے لیے نہ صادق ہونا ضروری ہو گا نہ کا ذب۔ اگر چہ احتمال دونوں کا ہوتا ہے۔ چونکہ عوام میں وہ مقبول ہوتے ہیں، اس لیے ایسے مقدمات سے جو قیاس مرکب ہوتا ہے، اس کے نتیجے سے لوگ مطمئن ہو جاتے ہیں۔ شعر وہ قیاس ہے جس کے مقدمات زیادہ تر غلط اور کبھی صحیح بھی ہوتے ہیں۔ اس قیاس سے مقصود مخاطب میں کوئی خاص کیفیت پیدا کرنی ہوتی ہے۔ دھوکا دینا مقصود نہیں ہوتا۔ مغالطہ وہ قیاس ہے جس میں محض غلط اور جھوٹے مقدمات سے کام لیا جائے۔ اس سے مقصود و مخاطب کو دھوکے اور غلطی میں ڈالنا ہوتا ہے۔
منطق کے معاملے میں متکلمین کی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے زیادہ تر جدلیات وغیرہ سے کام لیا، دلائل و براہین کو استعمال نہیں کیا۔ انھوں نے منطقی اسلحہ خانے کے صرف وہ ہتھیار لیے جو دشمن سے لڑنے کے واسطے ہوتے ہیں اورمنطق کے ان طریقوں سے کام نہیں لیا جن سے مخاطب کو متاثر اور مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے منطق انھیں دونوں چیزیں دے رہی تھی مگر انھوں نے پہلی کو لیا اور دوسری کو چھوڑ دیا۔ اگر چہ بعض مستثنی مثالیں بھی ہیں مگر اکثریت کے اعتبار سے صورت حال یہی ہے۔
اسی کانتیجہ تھاکہ ہمارے یہاں وہ علمِ کلام وجود میں آیا جو ” دلوں کو کھولنے کے بجائے
‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues