اسلام اور سیاست
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۱۸
تمھارے اور اپنی نعمن تمام کر دی۔
یہاں اکمالِ دین اور اتمام نعمت سے مراد اصلاً قانونِ اسلامی کی دفعات کی تکمیل نہیں ہے۔ بلکہ آخری شریعت کے ساتھ اقتدار کو جمع کرنا ہے یہی وجہ ہے کہ آیت میں اسی کے ساتھ ارشاد ہوا ہے کہ اب عرب کی تسخیر کے بعد کافر اس سے مایوس ہو گئے ہیں کہ وہ تمھارے دین کو مغلوب کر سکیں (الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمْ)۔ دوسرے مقامات سے اس کی مزید وضاحت ہوتی ہے جہاں غلبہ اسلامی کو اتمامِ نور (صف - ۸) سے تعبیر کیا گیا ہے، اور اتمام کلام الہی کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ اب اس کلام کو کوئی بدل نہیں سکے گا (انعام - ۱۱۵) اللہ تعالیٰ نے قرآن کے نزول کے بعد اس کی پشت پر وقت کی عظیم ترین سلطنت قائم کر دی۔ یہ سلطنت قرآن کو اپنے زیرِ حفاظت لئے ہوئے نسل در نسل چلتی رہی۔ تاآنکہ صنعتی انقلاب ہوا اور پریس کا دور آگیا اور سرے سے اس کا امکان ہی ختم ہوگیا کہ کوئی شخص یا گروہ قرآن میں تحریف کر سکے یا اس کو مٹا سکے ۔
اسلام کا مطالعہ کرتے ہوئے عقیدہ اور تاریخ کے فرق کو سمجھنا اور دونوں کو الگ الگ کر کے دیکھنا انتہائی طور پرضروری ہے۔ اگر ہم ایسا نہ کریں تو ہم قتال اور سیاست کے معرکے گرم کرتے رہیں گے اور سمجھیں گے کہ ہم پیغمبرانہ مشن کو زندہ کر رہے ہیں۔ حالاں کہ در حقیقت ہم دین کو ذبح کررہے ہوں گے ۔ کیوں کہ خدا کا آخری رسول، دوسرے تمام رسولوں کی طرح، لوگوں کو آخرت کی چیتاؤنی دینے آیا تھا نہ کہ لوگوں سے سیاسی لڑائیاں لڑنے کے لئے ۔ مزید یہ کہ اس قسم کا سیاسی جہاد، خود اصل مقصد (اسلام کا غلبہ تک پہنچانے کے لئے بھی قطعاً بے سود ہے۔ کیونکہ اسلام کا غلبہ خدا کی نصرت سے حاصل ہوتا ہے (وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللهِ) اور خدا کی مقرر کردہ صراطِ مستقیم کو چھوڑ کر پہلے ہی ہم اس کی نصرت کا استحقاق کھو چکے ہیں۔ یہی نہیں ، عین ممکن ہے کہ ہمارا یہ سیاسی جہاد ہمارے لئے دنیا و آخرت میں رسوائی کا سبب بن جائے۔ کیوں کہ دین خداوندی کو آخرت کا سوال بنانے کے بجائے سیاست کا سوال بنانا ، دین کی الٹی شہادت دینا ہے ۔ یہ آنے والی دنیا کے مسئلے کو موجودہ دنیا کے مسئلے کی حیثیت سے پیش کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کی الٹی شہادت آدمی کو سزا کا مستحق بناتی ہے نہ کہ انعام کا۔
ه (الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمْ ) يئسوا منه ان يبطلوه او يئسوا من دينكم ان يغلبوك : الاذ الله تعالى وفى بوعده من اظهارة على الدين كله فلا تخشوهُم) بعد اظهار الدين وزوال الخوف مت الكفار وانقلابهم مغلوبين بعد ما كانوا غالبين (الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ ) بان كفيتم خوف عد و کم و اظهر تكم عليهم كما يقول الملوك اليوم كمل لنا الملك، اى كفينا من كنا نخافه (وَأْتَمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي) بفتح مكة ودخولها آمنين ظاهرين دهم منار الجاهلية ومناسكهم تفسير نسفی ، جلد اول ، صفحہ ۲۶۰
‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues