Al-Risala · April 1978 · page 31

میرالروایات

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۳۱

دلوں کے دروازے بند کرنے والا تھا۔ اس نے داعی اور مدعو کی گفتگو کو شطرنج کا کھیل بنا دیا جس میں آدمی پہلے سے سیکھی ہوئی چالوں کے ذریعہ فریق ثانی کو زک دینے کی کوشش کرتا ہے۔ چنانچہ آدمی کو گھیر کر منطقی تدبیروں سے چت کر دینا، یہ علم کلام کا کمال بن گیا۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کی کوشش کو ایک ذہنی کھیل تو قرار دیا جا سکتا ہے مگر اسلام کی دعوت کا یہ طریقہ نہیں ہے۔ تاہم اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ یہ خود علم کلام کی خرابی نہیں ہے بلکہ منطق کے غلط استعمال کی خرابی ہے۔ علم کلام میں وہ اس لیے دخل ہوگئی کہ اسی طریقے کو علم کلام کی بنیاد فرض کر لیا گیا۔ مناظرہ، جس نے دعوت کے کام کو ایک بازی بنا دیا اور مناظرہ بازی کا فن وجود میں آیا، وہ زیادہ تر اسی غلطی کا نتیجہ ہے۔ خلاصہ یہ کہ علم کلام، اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے نام ہے اس بات کا کہ دین کو عقل کے ذرائع سے ثابت کیا جائے۔ چونکہ انسان کے اپنے پاس کسی بات کو سمجھنے کا واحد ذریعہ عقل ہے، اس لیے اسلام عقل کے ذریعہ اپنی بات سمجھا کر انسان کو مطمئن کرتا ہے۔ بارھویں صدی عیسوی میں جب یونان کی منطق و فلسفہ ترجمہ ہو کر مسلمانوں کے اندر پھیلے تو لوگوں نے سمجھا کہ یہ بہترین عقلی ذریعہ ہے جس سے دین کو ثابت کیا جا سکتا ہے مگر یہ اندازہ صحیح نہیں تھا۔ چنانچہ علم کلام کو یونانی منطق و فلسفہ پر ڈھالنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ علم کلام ایک فرضی اور قیاسی علم بن گیا جس کا تعلق حقیقت کی دنیا سے نہ تھا۔ یہ کام اس وقت ہوا جبکہ خود قرآن میں علم کلام کی دوسری بنیاد موجود تھی۔ وہ تھی تخلیق کائنات کی بنیاد جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ حق کی بنیاد پر ہے : ما خلقنا السموات والارض وما بينهما ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے الابالحق احقاف - ۳ درمیان ہے ، حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔

اس لیے یہ بالکل فطری بات ہے کہ اس کے اندر اثبات حق کا سارا مواد چھپا ہوا ہو۔ زمین و آسمان کی تخلیق میں اثبات دین کی جو حقیقی بنیاد تھی، وہ ارسطو کی منطق کی خیالی بنیادوں سے زیادہ قوی تھی۔ قدیم زمانے میں لوگوں کو قرآن کی اس کلامی بنیاد کی اہمیت سمجھ میں نہ آتی ہو۔ مگر موجودہ زمانے میں سائنس نے قرآن کے اشارات کو

‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues

Printed page