میرالروایات
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۳۲
تفصیلات کی صورت دیدی ہے اور قرآن کے اجمالی دلائل کو مکمل اور متعین دلائل بنا دیا ہے ۔ اب یہ سمجھنا نہایت آسان ہو گیا ہے کہ قرآن کی کلامی بنیاد ہی واحد بنیاد ہے جس پر علم کلام کی تعمیر کی جانی چاہیے ۔ یہ وہ علم کلام ہوگا جو آدمی کے لیے آیت ہوگا ، جو اس کو ذکر کرنے والا بنائے گا ، دینی فکر کی صلاحیت پیدا کرے گا ، جس کے بعد آدمی کا دل پکار اٹھے گا کہ حق یہی ہے ، جو آدمی کو آخرت کے احساس سے سرشار کر دے گا ، جیسا کہ ارشاد تا کہ تہذیب ہے، جوادی کی وراثبت ہے، اس ہوا ہے :
ان في خلق السماوات والارض واختلاف الليل والنهار لآيات لاولى الالباب ۔ الذين يذكرون الله قياما وقعوداً على جنوبهم ويتفكرون في خلق السماوات والارض ربنا ما خلقت هذا باطلاً، سبحانک فقنا عذاب النار آل عمران: ۱۹۰-۱۹۱ کے سرسار ندے کا جیا کے ارشاد بلا شبہ آسمان اور زمین کے بنانے میں اور رات اور دن کے آنے جانے میں، نشانیاں ہیں عقل والوں کے لیے جو کہ اللہ کو یاد کرتے ہیں کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ۔ اور غور کرتے ہیں آسمان اور زمین کے پیدا ہونے میں، وہ پکار اٹھتے ہیں، اے رب تو نے اس کو عبث پیدا نہیں کیا، تو پاک ہے سو بچا ہم کو آگ کے عذاب سے۔ Arguments from design استدلال کا یہ طریقہ تقریباً وہی ہے جس کو فلاسفہ کہتے ہیں۔ یہاں میں عہد حاضر کے ایک مشہور ترین منکر خدا کا ایک اقتباس نقل کروں گا جس نے صریح طور پر اس طریق استدلال کی اہمیت تسلیم کی ہے۔ برٹرینڈرسل (۱۹۷۰ء - ۱۸۷۲ء) اپنی کتاب ” میں کرسچین کیوں نہیں “ کے آغاز میں لکھتا ہے : ۔۔۔ اپنے صاحبِ کمال سے "It is true that scholastics invented what professed to be logical argu- ments proving the existence of God, but the logic to which these traditional gh. This argument, however. was destroyed by Darwin.
‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues