Al-Risala · April 1978 · page 33

میرالروایات

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۳۳

ترجمہ : یہ صحیح ہے کہ علمائے مذہب نے کچھ ایسی دلیلیں ایجاد کی ہیں جن کے متعلق دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ منطقی دلائل ہیں اور ان سے خدا کا وجود ثابت ہوتا ہے مگر وہ منطق جس پر ان روایتی استدلالات کی بنیاد قائم ہے ، ارسطو کی قدیم منطق ہے جس کو علما اب تمام علمائے منطق رد کر چکے ہیں۔ ہاں ان دلائل میں ایک دلیل ایسی ضرور ہے جو خالص منطقی نہیں ہے۔ میری مراد نظم کائنات کی دلیل سے ہے۔ مگر ڈارون نے اس دلیل کو ختم کر دیا ہے۔ “ برٹرینڈ رسل نے مذکورہ استدلال کا وزن تسلیم کرتے ہوئے ڈارونزم کے حوالے سے اس کو رد کرنے کی کوشش کی ہے۔ مگر کائنات کا نظم تو ایک واقعہ ہے جبکہ ڈارون کا نظریہ ارتقاء کوئی ثابت شدہ واقعہ نہیں۔ وہ صرف ایک کام چلاؤ نظریہ Workable Theory ہے اور ظاہر ہے کہ محض ایک کام چلاؤ نظریے کی بنیاد پر کسی چیز کی واقعیت کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

تو ہماتی مذہب کو دیکھ کر ایک شخص نہایت آسانی سے یہ خیال قائم کر لیتا ہے کہ مذہب تو ہم پرستی کا نام ہے، یہی حال علم کلام کی اس شکل کا ہے جو آٹھ سو برس پہلے یونانی فلسفے کی زمین پر وجود میں آئی اور بعد کو صدیوں تک ہمارے دینی نصاب تعلیم کا ایک لازمی جز بنی رہی۔ آج جب علم کلام کا لفظ بولا جاتا ہے تو فوراً ذہن اس مخصوص علم کی طرف چلا جاتا ہے جو حقیقۃً علم کلام کی تاریخ کا ایک جزو ہے نہ کہ کل علم کلام۔

ایک بزرگ نے علم کلام پر تنقید کرتے ہوئے مولانا شبلی نعمانی (صاحب الکلام) کا یہ اعتراف نقل کیا ہے :

فلسفی سر حقیقت نتوانست کشود گشت راز دگر آن راز که افشا می کرد شعر میں فلسفی “ کی نارسائی کا ذکر ہے نہ کہ متکلم کی۔ مگر قدیم متکلمین کے تتبع میں علم کلام اور فلسفہ کو ہم معنی سمجھ لیا گیا۔ حالانکہ دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں علم کلام حقیقتہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues

Printed page