Al-Risala · April 1978 · page 34

میرالروایات

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۳۴

علم دعوت ہے۔ جبکہ فلسفہ خود ایک مذہب ہے جو کسی چیز کو پہلے سے تسلیم کیے بغیر مجرد عقلی ذرائع سے حقیقت کی تلاش کرتا ہے۔

علم کلام کا یہ غلط تصور صرف ایک علمی اور فنی غلطی نہیں ہے بلکہ پچھلی صدیوں میں ہمیں اس کی وجہ سے زبردست نقصانات پہنچے ہیں۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ ہمارے یہاں سنجیدہ طبقے میں یہ ذہن بن گیا کہ دعوت و تبلیغ کے لیے علم کلام کوئی اچھا معاون نہیں ہے کیونکہ وہ زیادہ تر کج بحثی کا محرک ہوتا ہے۔ اس کا رد عمل یہ تھا کہ قدیم محدثین کی طرح بعد کے صوفیا نے بھی اس کو ترک کرنا ضروری سمجھا اور دوسری انتہا پر پہنچ گئے۔ انھوں نے سمجھا کہ کراماتی طریقہ تبلیغ کی راہ میں زیادہ بہتر نتائج پیدا کرتا ہے۔ یہ طرزِ فکر اگرچہ جزوی صداقت کا حامل تھا مگر اسی کے ساتھ نقصان کا پہلو لیے ہوئے تھا۔

اس کی وضاحت ایک مثال سے ہو جائے گی۔ ہندوستان کی جو قومیں صوفیا کی تبلیغ سے مسلمان ہوئیں، ان میں عام طور پر بدعات و توہّمات کا اس سے زیادہ زور ہے جتنا ان مسلم خاندانوں میں جو مسلم اقتدار کے زمانے میں باہر سے آئے اور یہاں آباد ہوگئے، اس کی وجہ کیا ہے۔ وجہ بالکل سادہ ہے۔ صوفیا، کے ذریعے جو لوگ مسلمان ہوئے وہ عام طور پر کسی ذہنی و فکری انقلاب کے نتیجے میں مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ بلکہ دعا و تعویذ اور کشف و کرامات سے متاثر ہو کر مسلمان ہو گئے تھے۔ یہ لوگ بالکل فطری طور پر اپنے ساتھ وہ تمام رسوم و رواج بھی لے آئے جو ان کے اپنے پچھلے سماج میں ہزاروں برس سے چلے آ رہے تھے یہ رسوم و رواج ان کے مسلمان ہونے کے باوجود، کہیں بالکل سابقہ حالت میں باقی رہے جیسا کہ ہریانہ کے میواتیوں اور راجستھان کے میراتیوں کی مثال میں نظر آتا ہے اور کہیں ان سوم و رواج میں صرف اتنا تصرف ہوا کہ ان کو اسلامیا لیا گیا، جیسے ڈھ وارہ کی جگہ شہیدوارہ وغیرہ۔ صوفیاء کے طریقِ تبلیغ کے برعکس علم کلام کا طریقِ تبلیغ فکری تبدیلی اور ذہنی انقلاب کی طرف سے اپنا عمل کرتا ہے۔ اس لیے جب کوئی اس راستے سے اسلام کو اختیار کرتا ہے تو وہ مکمل شعور کے ساتھ ایک مجموعہ عقائد کو چھوڑ کر دوسرے مجموعے عقائد کو اپنا تا ہے۔ اس لیے فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ اس کے زیر اثر جو شخص اپنا مذہب بدلتا ہے، وہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues

Printed page