یہ نظام عصبى کس طرح بنتا ہے
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۸، صفحہ ۴۴
ایک سفر
۱۹ فروری کو شیو گنج (ضلع سروہی) پہنچا اور ۲۲ فروری کو دہلی کے لئے واپسی ہوئی ۔
شیو گنج ، دہلی سے چھ سو کلومیٹر کے فاصلہ پر راجستھان کا ایک قصبہ ہے ۔ یہ گرینڈ ٹرنک روڈ کے کنارے واقع ہے۔ یہاں کی آبادی بارہ ہزار ہے جس مسلمان تقریباً ایک ہزار ہیں۔ پہلے یہ ریاست سروہی کا ایک حصہ تھا جو سو سال سے کچھ عرصہ پہلے آباد کیا گیا۔ آزادی ہند کے وقت سروہی ریاست کے راجہ سردپ رام سنگھ دیوڑا تھے جو یہاں عام طور پر دربار صاحب" کہے جاتے تھے۔ وہ اسلام سے متاثر ہوئے ۔ کئی سال تک اسلام کا مطالعہ کرتے رہے ۔ ۱۹۴۶ میں انھوں نے اپنے اسلام کا اعلان کر دیا۔ اعلانِ اسلام کے بعد وہ زیادہ تر دہلی میں رہنے لگے تھے۔ ان کا انتقال ۱۹۴۷ میں دہلی میں ہوا۔ ان کی قبر اب بھی دہلی میں موجود ہے۔ ان کا اسلامی نام سر سلطان عبداللہ دیوڑا تھا۔ راجہ صاحب کے اسلام کے بعد یہاں اور بھی بہت سے لوگ اسلام میں داخل ہو گئے راجہ صاحب کے کوئی اولاد نہیں تھی ۔ انھوں نے غالباً تین بڑی بڑی جائدادیں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے نام وقف کیں۔ ریاستوں کے خاتمہ کے بعد جو حالات پیدا ہوئے ، ان کی وجہ سے یہ جائدادیں یونیورسٹی کے قبضہ میں نہ آسکیں۔ تاہم، جیسا کہ مجھے بتایا گیا، ملا طاہر سیف الدین نے اپنی چانسلری کے زمانہ میں موہن لال سکھاڈیا (سابق وزیراعلیٰ راجستھان) پر زور ڈال کر ماؤنٹ آیو اور آیو روڈ کی دو کوٹھیوں کی جزوی قیمت یونیورسٹی کو دلائی جو تین لاکھ روپے تھی۔ منسٹر سکھاڈیا کا حلقہ انتخاب اوپو پور تھا۔ یہاں ملا طاہر سیف الدین کے ماننے والے کافی تعداد ہیں میں ۔ اس لیے یہاں وہ اپنی ایک انتخابی قیمت رکھتے ہیں۔
مندرجہ بالا تین لاکھ کی رقم سے مسلم یونیورسٹی میں سروہی ٹرسٹ قائم ہوا جو ابھی تک چل رہا ہے۔ مسلم یونیورسٹی کے پراسپکٹس (۱۹۷۷۔ ۱۹۷۵) میں اس کے متعلق حسب ذیل الفاظ لکھے ہوئے ہیں :
SIROHI TRUST: The trust awards a limited number of stipends to deserving Muslim students, preferably from Rajasthan, who are in need of financial assis- tance. (p.69)
سروہی ٹرسٹ کے تحت محدود تعداد میں وظائف دیئے جاتے ہیں ۔ یہ وظائف ترجیحاً راجستھان کے مستحق مسلم طالب علموں کے لئے ہیں جو مالی امداد کے ضرورت مند ہوں۔ یہاں چند مسجدیں ہیں۔ میں نے ایک مسجد دیکھی جو سو سال پہلے تعمیر کی گئی تھی ۔ اس مسجد سے متصل کافی زمین ہے جن پر کچھ تعمیرات کرائی گئی ہیں۔ تاہم اب بھی اتنی کافی زمین ہے کہ اگر اس کو استعمال کیا جائے تو یہاں ایک اچھا مدرسہ قائم کیا جا سکتا ہے جس کی یہاں سخت ضرورت ہے۔ اس وقت بھی ابتدائی تعلیم کا ایک مکتب چل رہا ہے ۔ شیوگنج بعض تجارتی سامان ہوں کے لئے راجستھان کی سب سے بڑی منڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اور ضروری کو یہاں راشٹر پتی نیلم سنجیو ریڈی آئے تھے انھوں نے آبادی کے باہر ایک ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھا۔ دو سو ایکڑ زمین پر یہ جدید ترین طرز کا اسپتال حسلوک (بمبئی) کے معیار کا اسپتال ہوگا۔ اس پر دو کروڑ روپے کے خرچ کا منصوبہ ہے۔ یہ اسپتال حکومت ہند کے علاوہ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے تعاون سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔
شیو گنج کا ریلوے اسٹیشن جوائی بندھ ہے۔ جوانی
‹ Previous page Next page › Contents of April 1978 All issues