الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۵۰
الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۵۰
ظہورِ اسلام از مولانا وحید الدین خاں صفحات ۲۰۰ ــــ قیمت دس روپے آفسیٹ کی اعلیٰ طباعت کے ساتھ جدید اسلامی لٹریچر میں اپنی نوعیت کی پہلی کتاب روانگی کا خرچ بذمہ ادارہ قرآن پہلی کتاب ہے جس نے انسانی تاریخ میں دورِ نشر کا آغاز کیا۔ علمی طرز فکر کی بنیاد رکھی اور سائنٹفک استدلال کو رائج کیا۔ موجودہ دور کا علمی انقلاب، قرآن ہی کے پیدا کردہ انقلاب کا نتیجہ ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ قرآن کے حاملین اس انقلاب کو سمجھنے میں سب سے پیچھے ہیں ــــ وہ ابھی تک شعر و شاعری کی فضا سے نکل نہ سکے۔ حتیٰ کہ ان کی نثر بھی خطابت اور شاعری کی ایک صورت ہوتی ہے۔ سائنٹفک استدلال میں ان کے پیچھے ہونے کا حال یہ ہے کہ ان کے علما راب بھی سائنٹفک استدلال اور مغرب زدگی کو ہم معنی سمجھتے ہیں۔
مسلمانوں کی اس علمی پسماندگی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ دورِ جدید کے معیار فکر پر ابھی تک اسلام کا علمی اظہار نہ ہو سکا۔ ہر دور کا ایک اسلوب اور ایک علمی معیار ہوتا ہے اور ہر دور کے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنے دور کے فکری معیار پر خدا کے دین کا اعلان کریں۔ "ظہور اسلام" جدید اسلامی تاریخ کی پہلی کتاب ہے جس میں اسلام کو وقت کے معیار فکر پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔