Al-Risala · May 1978 · page 4

اداریہ

الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۴

اداریہ

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی جو عالم بھی ہیں۔ انھوں نے کہا: الرسالہ کی آواز انبیاء والی آواز ۔ اس کے سوا ارے لئے نجات کا کوئی راستہ نہیں ۔ اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ سب کچھ چھوڑ کر میدان عمل میں نکل پڑیں ، خواہ اس کے نتیجہ میں دنیا بالکل برباد ہو جائے ۔ ایک اور صاحب جو الرسالہ کو شروع سے پڑھ رہے ہیں ، اپنے خط میں لکھتے ہیں: ” میں نے طے کیا ہے کہ اپنے کھیتوں میں زیادہ تو جہ دوں اور اللہ سے دعا کروں کہ وہ میری مختصر زمین میں اتنی برکت دے کہ الرسالہ کی دعوتی مہم کے سلسلے میں اپنی آرزوؤں کو پورا کر سکوں ۔ دوسری بات میں نے یہ طے کی ہے کہ اپنے یہاں پانچ پرچوں سے الرسالہ کی ایجنسی شروع کروں “۔

ہمارے نزدیک دوسری بات ہی اسلامی بات ہے۔ پہلی بات صرف ایک قسم کا وسوسہ ہے شیطان مختلف طریقوں سے آدمی کو بہکاتا ہے۔ اس میں سے ایک طریقہ یہ بھی ہے۔

اسلام کے لئے آج ہم کو جو کچھ کرنا ہے، وہ صرف دو چیزیں ہیں۔ یہ سمجھ کر زندگی گزارنا کہ کل ہم تبدیلیوں کی حقیقت بمبئی کو دروازہ ہند (گیٹ وے آف انڈیا) کہا جاتا ہے اس کی علامت کے طور پر وہاں سمندر کے کنارے اس نام کا ایک گیٹ بھی بنایا گیا ہے۔ یہ اس زمانہ کی یادگار ہے جب کہ سمندر کے راستہ سے ہندوستان آنے والے لوگ بمبئی کی بندرگاہ پر اتر کر ہندوستان میں داخل ہوتے تھے۔ مگر اب سفری حالات بدل چکے ہیں۔ اب ہندوستان کا دروازہ بمبئی کا بندرگاہ نہیں بلکہ دہلی کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ ہے۔ اب بندرگاہوں کے بجائے ہوائی اڈوں کے ذریعہ ایک ملک کے لوگ دوسرے ملک میں داخل ہوتے ہیں۔ تاہم یہ فرق طریق داخلہ کا فرق ہے نہ کہ اصول داخلہ کا۔ اس سے نفس داخلہ ہند کے قوانین پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

یہ ایک مثال ہے جس سے ان تبدیلیوں کی حقیقت سمجھی جاسکتی ہے جس کے حوالہ سے مذہب میں تبدیلی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ بلاشبہ دنیا میں بہت سی تبدیلیاں ہوئی ہیں اور یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ یہ تبدیلیاں مذہب اور سماج کے درمیان پھر سے مطابقت کا تقاضا کرتی ہیں۔ مگر یہ صرف موجودہ حالات پر مذہب کے اصولوں کے از سر نو انطباق کا سوال ہے نہ کہ خود مذہب اللہ کے سامنے پیش ہونے والے ہیں ۔ دوسرے اپنے بھائیوں میں صالح خیالات کی اشاعت ۔ یہ دونوں کام ہر شخص کے لئے ممکن ہیں ۔ اور ممکن دائرہ سے آغاز ہی کا نام کام ہے ۔ غیر ممکن دائرہ سے آغاز کا منصوبہ بنانا خندق میں چھلانگ لگانا ہے ۔ اور خدا نے کسی کو اس کا مکلف نہیں کیا ہے ۔ کو بدل کر نیا مذہب بنانے کا ہے ۔ قدیم زمانہ میں جانور سواری کا کام دیتے تھے۔ اب سفر کے لئے مشینی سواریاں استعمال ہوتی ہیں۔ مگر اس کا مطلب ۔ نہیں کہ ایک مسافر جس مقام پہنچنے کے لئے پہلے پورب کی طرف جاتا تھا، اب وہ اس کے لئے پچھم کی طرف دوڑنے لگے گا ۔

ہم

‹ Previous page Next page › Contents of May 1978 All issues

Printed page