آگ: درخت کا خوبصورت بچہ
الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۱۰
ایک تبصرہ جو بہت سی کتابوں پر صادق آتا ہے ’’بھیم راؤ جی امبیڈ کر" ایک تازہ مطبوعہ انگریزی کتاب ہے، ٹائمس آف انڈیا کا تبصرہ نگار اس کا جائزہ لیتے ہوئے لکھتا ہے :
یہ کتاب کون سی مفید خدمت انجام دے گی، میں اس کو سمجھنے سے بالکل معذور رہا۔ میرا خیال ہے کہ یہ کتاب اس بات کی ایک شاندار مثال ہے کہ کس طرح ایک عمدہ موضوع، محنت اور نیا پن نہ ہونے کے سبب سے ایک ناقابل مطالعہ کتاب کی صورت اختیار کر سکتا ہے جب کہ اس موضوع پر لکھنے کے لئے کافی مواد موجود ہو۔
آگ: درخت کا خوبصورت بچہ
عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ علماء بنی اسرائیل میں سے تھے۔ جب رسول اللہ کے کے دست مبارک پر بیعت کی سعادت ان کو حاصل ہوئی تو انھوں نے عرض کیا کہ قرآن کے ساتھ تو رات کی تلاوت بھی جاری رکھوں۔ آپ نے فرمایا، اقرأ هذالليلة دهن الليلة (ایک رات قرآن پڑھا کرو اور ایک رات تورات)
"تذکرہ حفاظ ذہبی، جلد 1، صفحه 26 قرآن کی صحیح رہنمائی میں اس قسم کی کتابوں کے پڑھنے سے جہاں تک میرا ذاتی تجربہ ہے، خود قرآن کے سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ ایک دن میں مجریدید کے اردو ترجمہ کا مطالعہ کر رہا تھا، ایک جگہ مجھے یہ فقرہ ملا: "اے اگنی تو خوبصورت بچہ ہے، پودوں میں سے نکالا ہوا! تاریکی کو دور کرتا ہوا، ماؤں سے شور کرتا ہوا پیدا ہوا ہے" (ادھیا 4 ) اس اشلوک نے معاً میرے دماغ کو قرآن کی ان آیتوں کی طرف منتقل کر دیا جن میں ارشاد ہوا ہے کہ تم دیکھتے ہو اس آگ کو جسے تم پیدا کرتے یا نکالتے ہو، کیا تم نے اس درخت کو اگایا، یا ہم ہیں اس کے اگانے والے" (الواقعہ) قریب قریب یہی مضمون سورہ یسین میں بھی ہے۔ عام مفسرین، عرب کے بعض خاص درختوں کا ذکر کر کے لکھ دیتے ہیں کہ ان کی شاخوں کو باہم رگڑ کر عرب آگ پیدا کیا کرتے تھے، اسی کی طرف اشارہ ہے، لیکن مجریدید کا یہ طرز تعبیر قرآن کے طرز تعبیر سے اس درجہ ملتا جلتا تھا کہ خیال گزرا کہ کیوں نہیں قرآن میں بھی "درخت" کو عام درخت سمجھا جائے اور جیسے وید میں ہے کہ آگ خوبصورت بچہ ہے پودوں سے نکالا ہوا، یعنی آگ کا ظہور لکڑی ہی کے جلنے سے ہوتا ہے اور اسی سے شور کرتا ہوا پیدا ہوتا ہے، ،قرآن میں بھی کیا اسی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ (مولانا مناظر احسن گیلانی)