Al-Risala · May 1978 · page 11

آگ: درخت کا خوبصورت بچہ

الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۱۱

حدیث میں آیا ہے کہ ایک گھڑی کا سوچنا ستر برس کی عبادت سے افضل ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص تنہائی میں اللہ کو یاد کرے ، وہ ایسا ہے جیسے اکیلا کفار کے مقابلہ میں چل دیا ہو۔ ایک حدیث کے مطابق سات آدمی وہ ہیں جن کو اللہ اس دن اپنے سایہ کے نیچے جگہ دے گا جب کہ اس کے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔ ان میں سے ایک وہ ہے جو اللہ کو تنہائی میں یاد کرے اور اس کی آنکھ سے آنسو بہہ پڑے۔

ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ عقل والے لوگ کہاں ہیں ۔ لوگ پوچھیں گے ، عقل والے کون ہیں۔ جواب دیا جائے گا، وہ لوگ جو اللہ کو کھڑے، بیٹھے اور لیٹے یاد کرتے رہے اور آسمان اور زمین کی تخلیق میں غور کرتے تھے اور کہہ اٹھتے تھے، خدایا تو نے ان کو عبث پیدا نہیں کیا۔ تو پاک ہے۔ پس ہم کو جہنم کے عذاب سے بچا۔ ابن ابی الدنیا نے ایک مرسل روایت نقل کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار صحابہ کی ایک جماعت کے پاس آئے۔ وہ لوگ چپ چاپ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا ، کیا سوچ رہے ہو۔ انھوں نے جواب دیا، اللہ کی مخلوقات میں غور کر رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا ۔ ہاں اللہ کی ذات میں غور نہ کرو اللہ کی مخلوقات میں غور کیا کرو۔

ابو ہریرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص چھت پر لیٹا ہوا آسمان اور ستاروں کو دیکھ رہا تھا۔ اس پر خدا کی عظمت کا تاثر قائم ہوا اور بولا: " خدا کی قسم مجھے یقین ہے کہ تمھارا پیدا کرنے والا کوئی ضرور ہے، اے اللہ تو مجھے بخش دے۔ " خدا کی رحمت اس کی طرف متوجہ ہوئی اور وہ بخش دیا گیا۔ عبداللہ بن عباس کہتے ہیں ، ایک ساعت کا غور تمام رات کی عبادت سے افضل ہے۔ ام درداء سے پوچھا گیا کہ ابو دردار کی محبوب عبادت کیا تھی، فرمایا غور و فکر۔ ابو ہریرہ کی ایک روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک ساعت کا غور و فکر ساٹھ برس کی عبادت سے افضل ہے۔ حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی وہ مخفی یاد جس کو فرشتے بھی نہ سن سکیں، اس کا ثواب ستر درجہ زیادہ ہے۔

عبادہ بن صامت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ بہترین ذکر خاموش ذکر ہے اور بہترین رزق وہ ہے جو کفایت کا درجہ رکھتا ہو۔ ایک حدیث کے مطابق آپ نے فرمایا کہ اللہ کو ذکر شامل سے یاد کیا کرو، پوچھا گیا، ذکر خامل کیا ہے۔ فرمایا " مخفی یاد "

یہی وہ ذکر (یاد الہیٰ) ہے جس کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ جو ایسا کرے، اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں خواہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔

عن ابی ھریرۃ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ علیه نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، دنیا ملعون ہے اور جو کچھ

‹ Previous page Next page › Contents of May 1978 All issues

Printed page