Al-Risala · January 1978 · page 20

اسلام اور سیاست

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۲۰

عربی زبان نئی اہمیت حاصل کررہی ہے ہزار برس پہلے ایشیا اور افریقہ کے بڑے حصہ پر مسلمانوں کا اقتدار قائم تھا۔ یہ صرف ایک سیاسی غلبہ نبیں تھا۔ بلکہ مسلمان اس وقت کی دنیا میں علمی اور فکری امام بنے ہوئے تھے۔ اسپین میں مسلم عہد کے عروج کے وقت اسپینی عیسائیوں میں ایک ایسا طبقہ پیدا ہوگیا تھا جس نے عملاً عرب تمدن کو اختیار کر لیا تھا۔ ایسے لوگوں کو اس زمانہ میں مستعرب (MOZARABES) کہا جاتا تھا۔

قرطبہ کے بشپ (ALVARO) نے ان عیسائی مستعربین پر افسوس کرتے ہوئے لکھا تھا :

" میرے مسیحی بھائی عربی اشعار اور حکایات سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور مسلمان علماء اور فلاسفہ کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اس نیت سے نہیں کہ ان کی تردید کریں بلکہ اس ارادہ سے کہ وہ عربی کے صحیح اور شستہ طرز ادا سے آشنا ہو سکیں۔ آج کل ہماری کتب مقدسہ کی لاطینی تفاسیر کا پڑھنے والا کہاں ملتا ہے، اور ایسے لوگ کہاں ہیں جوانا جیل اور انبیاء کے صحف کا مطالعہ کرتے ہوں ۔ افسوس کا مقام ہے کہ تمام عیسائی نوجوان جو اعلیٰ قابلیت کے مالک ہیں عربی زبان اور ادب کے سوا اور کسی ادب سے واقف نہیں ہیں۔ یہ لوگ عربی کتا ہیں بڑے ذوق شوق کے ساتھ پڑھتے ہیں اور ان کو اپنے کتب خانوں کے لئے زر کثیر صرف کر کے حاصل کرتے ہیں اور علانیہ کہتے ہیں کہ یہ لٹریچر بڑی تحسین کے لائق ہے۔ اس کے برعکس اگر ان کے سامنے مسیحی کتابوں کا ذکر کیا جائے تو وہ حقارت سے جواب يتعلمون العربية في المدرسة العراقية بباريس ۲ طالبة وطالبة قدموا من الارجنتين وهولندا واميركا ويوجسلافيا وبلجيكا والمانيا وفرنسا والسنغال وحتى من جزر القمر ليتعلموا اللغة العربية في المدرسة العراقية بباريس موزعين على صف متقدم واخر اولي فيها . بيرس میں عراق کی طرف سے ایک اسکول قائم کیا گیا ہے جس میں مغربی نوجوانوں کو عربی زبان سکھائی جاتی ہے اس میں ۷۰ طلبہ وطالبات ہیں جو مختلف ملکوں، ارجنٹائن، بالینڈ امریکہ، یوگوسلاویا، بلجیم، جرمنی فرانس، سینیگال وغیرہ کے ہیں۔

دیں گے کہ اس قسم کی کتابیں ان کی توجہ کے لائق نہیں، افسوس کہ مسیحی اپنی زبان تک بھول گئے ہیں۔ ہزار میں سے مشکل ایک شخص ایسا ملے گا جو معقول قسم کی لاطینی میں اپنے دوست کے کے نام معمولی ساخط بھی لکھ سکے لیکن اگر عربی قابلیت پوچھے تو بہت سے ایسے اشخاص ملیں گے جو نہایت فصیح و بلیغ عربی میں اپنے خیالات ادا کر سکتے ہیں۔ بلکہ اس زبان میں ایسی عمدہ شاعری کرتے ہیں کہ خود عرب بھی اس کا مقابلہ نہ کر سکیں:۔ یہ اقتباس ہسپینی مستشرق پروفیسر پالنسیا (PALENCIA) کی کتاب سے ماخوذ ہے جس کا پہلا ایڈیشن ۱۹۳۰ میں شائع ہوا تھا جسے فاضل حسین یونس نے اس کو ہسپینی سے عربی میں منتقل کیا ہے۔ مطبوعہ قاہر ہ 1955)

تاتاریوں نے جب عالم اسلام کو تاراج کیا تو صورت حال بدلنے لگی ۔ اب نہ صرف سیاسی اعتبار سے بلکہ فکری او علمی حیثیت سے بھی مسلم قوم پستی کی طرف چلی گئ۔ یہ ھویں

‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues

Printed page