Al-Risala · May 1978 · page 19

کل عیش وان تطاول دهدا منتهى امره الى ان يزولا

الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۱۹

کہ ہماری زندگی کی ابتدا اور انتہا میں کتنا فاصلہ ہے۔

اس کے ان الفاظ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک مخلص شخص تھا، اور اس کو خداکے پیغمبر کی تلاش تھی مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک "مردِ کامل" کے لئے اپنے شوق کا اظہار کرتا ہے۔ حالاں کہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ لوگ خود اس کو مردِ کامل مان لیں اور اس کی پرستش شروع کر دیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اس کے اپنے زمانہ میں ہوئی۔ مگر آپ پر ایمان لانے کے بجائے وہ آپ کے خلاف حسد کرنے لگا۔ اس نے کہا: " مجھے امید تھی کہ نبوت مجھے ملے گی ۔ اس کے بعد وہ لوگوں کو آپ کے خلاف اکسانے لگا۔ غزوہ بدر میں جو مخالفین اسلام قتل ہوئے تھے، ان کا مرثیہ لکھ کر لوگوں کو بھڑکاتا رہا۔ جب اپنی تخریبی کوششوں میں اسے کامیابی ہوتی نظر نہ آئی تو وہ اپنی بیٹی کو لے کر یمن کی آخری حدود کی طرف چلا گیا۔ وہاں سے پھر طائف آیا اور وہیں مر گیا ۔ آخر وقت میں اس کی زبان پر یہ اشعار تھے :

کل عیش وان تطاول دهدا منتهى امره الى ان يزولا

ليتنى كنت قبل ما قد بدا لي في رؤس الجبال ارعى الوعولا اجعل الموت نصب عيني واعتذر غولة الدهي ان للدهر غولا زندگی خواہ کتنی ہی لمبی ہو۔ اس کا انجام بہر حال زوال ہے۔

کاش اس حالت کے رونما ہونے سے پہلے میں پہاڑوں کی چوٹیوں میں ہوتا اور وہاں پہاڑی بکروں کو چرایا کرتا۔ تو موت کو اپنا نصب العین بنا اور زمانہ کی آفتوں سے ڈر تارہ کیونکہ زمانہ اچانک پکڑ لیتا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بار اس کے کچھ اشعار سنائے گئے جس میں توحید کے مضامین تھے، ان کو سن کر آپ نے فرمایا: " اس کی زبان مومن تھی اور اس کا دل کافرہ "

کیا آپ الرسالہ کے خریدار ہیں

اگر نہیں تو فوراً سالانہ خریداری کی رقم بذریعہ منی آرڈر روانہ فرمائیے ، تا کہ آپ دین حق کو زندہ کرنے کی اس تاریخی مہم میں شریک ہوسکیں جو اس ماہنامہ کے ذریعہ شروع کی گئی ہے زر تعاون سالانہ : عمومی ۲۳ روپے خصوصی کم از کم ایک سو ایک روپیہ الرسالہ جمعیتہ بلڈنگ قاسم جان اسٹریٹ ۔ دہلی ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1978 All issues

Printed page