Al-Risala · May 1978 · page 20

اعتدال سے ہٹنے کے بعد

الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۲۰

بائبل کی زبان میں تم نے بہت امید رکھی مگر تم کو تھوڑا ملا بنی اسرائیل کے نبی حجّی ، جن کا زمانہ چھٹی صدی قبل مسیح ہے ، کی ایک کتاب موجودہ عہد نامہ قدیم میں شامل ہے ، وہ اپنی قوم کو تنبیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

" تم نے بہت ساہو یا پر تھوڑا کاٹا ۔ تم کھاتے ہو پر آسودہ نہیں ہوتے ۔ تم پیتے ہو پر پیاس نہیں بجھتی ۔ تم کپڑے پہنتے ہو پر گرم نہیں ہوتے۔ اور مزدوری اپنی خریدیا سوراخ دار تھیلی میں جمع کرتا ہے۔ رب الافواج فرماتا ہے کہ اپنی روش پر غور کرو۔ تم نے بہت امید رکھی اور دیکھو تھوڑا ملا۔ اور جب تم اسے اپنے گھر میں لائے تو میں نے اسے اڑا دیا“ ”رب الافواج فرماتا ہے کیوں ۔ اس لئے کہ میرا گھر ویران ہے۔ اور تم میں سے ہر ایک اپنے گھر کو دوڑا چلا جاتا ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں ابھی خداوند کے گھر کی تعمیر کا وقت نہیں آیا۔ تب خداوند کا کلام حجی نبی کی معرفت پہنچا۔ کیا تمہارے لئے مسقف گھروں میں رہنے کا وقت ہے جب کہ یہ گھر ویران پڑا ہے۔ اب رب الافواج یوں فرماتا ہے کہ تم اپنی روش پر غور کرو۔ “

اعتدال سے ہٹنے کے بعد

نظام ایک معتزلی تھا۔ معتزلہ کے عقیدہ کے مطابق اس کا کہنا تھا کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہمیشہ جہنم میں جلے گا ۔ اور چونکہ شراب پینا گناہ کبیرہ میں سے ہے ۔ ۔ اس لئے شراب پینے والا ہمیشہ جہنم میں جلے گا۔ ابو نواس نے اپنے ایک قصیدہ میں اس کا جواب دیتے ہوئے کہا: فقل لمن يدعى فى العلم فلسفة حفظت شيئا وغابت عنك اشياء اس شخص سے کہہ دو جو فلسفہ کا دعوے دار ہے کہ تم نے ایک چیز یاد کر لی ہے اور بہت سی چیزیں تم سے اوجھل ہیں۔ اصل یہ ہے کہ معتزلہ نے جنت اور جہنم کے اثبات کے لئے اشیاء کے لازمی خواص سے استدلال کیا۔ انھوں تو لها جس طرح آگ کا نتیجہ گرمی ہے اور برف کا نتیجہ ٹھنڈک ، اسی طرح اعمال کے بھی لازمی نتائج ہوتے ہیں۔ یہ بات ایک حد تک صحیح تھی ۔ مگر وہ اس کو آخری حدود تک لے گئے ۔ یہاں تک کہ گناہ کبیرہ کا خاصہ ان کے نزدیک اتنا قطعی بن گیا کہ ارتكاب جرم کے بعد بھی وہ اس سے الگ نہیں ہو سکتا تھا۔

معتزلہ کی غلطی یہ تھی کہ وہ بھول گئے کہ یہاں اسباب وعلل کے درمیان خدا کی ذات بھی ہے ۔ وہ بندہ کی شرمساری کو پسند کرتا ہے اور توبہ کو قبول فرماتا ہے ۔ حتی کہ وہ کسی بندہ کو اس طرح پاک کر دیتا ہے گویا اس سے گناہ ہی سرزد نہ ہوا ہو۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر ، وہ اپنے بعض بندوں کے لئے ان کے گناہ کو بھی ثواب کے خانہ میں لکھ دیتا ہے : أُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتِ - ( (فرقان70-)

‹ Previous page Next page › Contents of May 1978 All issues

Printed page