اعتدال سے ہٹنے کے بعد
الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۲۱
اصل کام خلود فی النار والوں کو خلود فی الجنۃ کے دائرہ میں لانا ہے میں ایک ناخواندہ قسم کا آدمی ہوں، ڈگری بھی بی۔ اے کی ہے وہ بھی انگریزی کی نہیں اردو کی (جامعہ ملیہ دہلی کی ! ) عربی فارسی میں بھی مبتدی ہوں۔ واقعہ یعنی اس درجہ کا ہوں کہ تیس برس حجاز مقدس میں ہو گئے، نہ اچھی طرح عربی بول سکتا ہوں نہ لکھ سکتا ہوں، نہ غیر کی امداد کے سوا پوری طرح سمجھ سکتا ہوں۔ یہ تو ہوئی تعلیمی حالت، اخلاقی کمال کا یہ حال ہے کہ ایک ایسے گناہ کا مرتکب ہوں جو نہ بیان ہو سکتا ہے نہ اس کا کوئی مداوا ہے۔ اسلام نہیں پوری انسانیت کا مجرم ہوں، نہ مجنوں کی کوئی حقیقت ہے میرے سامنے، نہ حجاج بن یوسف کی ۔ لیکن یہ سب وہ باتیں ہیں کہ کسی کو میری بات پر کان نہیں دھرنا چاہئے، لیکن کہنے پر مجبور ہوں ۱۔ ہماری قوم ایک آوارہ قوم ہے اور اسی لئے ناکارہ ـــ آوارہ کیوں ہے ؟ اس لئے کہ اس کا کوئی مقصد نہیں !
۲ عارضی طور پر کوئی مقصد کسی خطہ ارضی یا قطعہ ملّی کا بن گیا ، بن گیا۔ ورنہ ملی طور پر انفرادی اغراض اور بے مقصدی ہمارا مقصد ہے۔
۳۔ کیا واقعی ہم بے مقصد پیدا کئے گئے ہیں ، بے فائدہ، عبث ؟
۴۔ نہیں مقصد ہے ، خوشنودی خدا اور رضائے الہی، والدخول فی الجنہ !
۵ - مگر ان چیزوں کا تعلق آخرت کے ساتھ ہے، دونوں غیر مرئی اور غیر محسوس ہیں۔
۶۔ دنیا میں ظاہری مقصود : عبادت و اطاعت، مگر اُمم سابقہ کے لئے !
۷۔ ہمارے لئے ساری اصطلاحی عبادات ذریعہ ہیں ، مقصود نہیں ، ہاں سب سے بڑی عبادت عبدیت کی دعوت، وہ ہمارا مقصود قرار دیا گیا - اُخرجت للناس (لللمسلمین نہیں)۔
۸۔ اُخرجت للناس - یعنی - لِإخراج الناس مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ - مِنَ النَّارِ إِلَى الْجَنَّةِ - مِنَ الكُفْرِ إِلَى الْإِسْلَامِ ۹- یہ مرئی اور محسوس بھی ، اس کی چیکنگ ( CHECKING ) بھی ہو سکتی ہے ، محاسبہ بھی ہو سکتا ہے ۔
۱۰- یہ ہر شخص کا مقصد ہے ، مقصد حیات - عملاً ایسا فریضہ جیسے نماز ، ہر صغیر و کبیر پر واجب ۔ ہر حال میں ہر جگہ ، مرد وزن ، صحیح و معذور سب برابر - اس میں وہ رخصت بھی نہیں جو نماز کے لئے عورت کو اور زکوٰۃ کے لئے غلام کو مل جاتی ہے ۔ ۱۱۔ ہاں ” وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ “ کی بنا پر ایک مستقل طائفہ بھی اس کے لئے مقرر یا منتخب ہو سکتا ہے ۔ مگر اس طرح کہ ہر شخص مانی اور جانی طور پر اس کے ساتھ اس طرح مربوط و موثوق ہو کہ کسی حال میں اپنے آپ کو قلبی طور پر اس سے جُدا نہ پاسکے۔ مگر کام یہی ہو کہ : « خُلُود فى النَّارِ» والوں کو: «خُلُود فِي الَجَنّة‘‘ “ کے دائرے میں لانا ہے - حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہی کام تھا، ساری عمر اسی کو انجام