اعتدال سے ہٹنے کے بعد
الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۲۲
دیتے رہے۔
۱۲۔ ہم کو ایک ہزار سال دیئے گئے، سارا ملک مسلمان ہو سکتا تھا، نہیں اٹھے حکومت ضبط کر لی گئی، ذلیل و خوار ہوئے، لاکھوں نذرِ اجل ہوئے، پھر شراب خور کی نہیں، پیشاب خوری کی غلامی میں ڈال دئے گئے۔ ہزار سال میں سارا ملک مسلمان ہو سکتا تھا۔ ۱۳۔ اسپین میں چھ سو سال دیئے گئے، قوت، وسطوت اور علم و فن کے ساتھ، نہیں اٹھے سمندر میں ڈبو دئے گئے ساگر سارا انہیں تو آدھا یورپ تو مسلمان ہو سکتا تھا۔
۱۴۔ خلافت عثمانیہ کو سات سو سال دیئے گئے، اسلام کہاں سے کہاں پہنچاپورپ نہیں امریکہ بھی مسلمان ہو سکتا تھا، سلطنت مٹ گئی، خود ہی برباد ہو گئی۔ آج سارے عالم کی باگ ڈور کفر کے ہاتھ میں ہے، جیسا چاہتے ہیں نچاتے ہیں یہ سب ترک دعوت کا نتیجہ ہے۔
۱۵۔ قادیانی اور کچھ نہیں، یہ تو صرف رتا گیا کہ دعوت دو تو آج بھی لاکھوں مسلمان ہو سکتے ہیں، اور غلط اسلام اس طرح پھیل سکتا ہے تو صحیح اسلام تو کس تیزی سے جائے گا، بلکہ اُن کے ہاں اس کا بھی جواب ہے کہ جب تک مسلمان خود کامل مسلمان نہیں بن جائیں گے، وہ دعوت کے ناقابل ہیں۔
۱۶۔ تاریخ اسلام میں ہزاروں نہیں لاکھوں ہی عالم پیدا ہوئے خدا معلوم کیا قصہ ہے، ہر ایک نے اس کو شجر ممنوعہ ہی سمجھا، چاروں طرف سے گھر گئے تو مدافعت تو ضرور فرمائی، مگر ہجوم کو کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھا۔
۱۷- غزالئ، رومئ، حسبِ اصلاحِ نفس اور اصلاحِ مسلمین میں لگے رہے۔ کسی نے اس ضرورت کو ضرورت، فریضہ کو فریضہ، مقصد کو مقصد نہیں گردانا۔ ۱۸- یہودیوں کا ایک مقصد ہے، دو ہزار برس بعد اس کو پا ہی لیا۔ ساری قوم لگی اور ہر دور میں لگی رہی، مسلمانوں کی بیخ کنی اور ہیکلِ سلیمان کی واپسی۔ ۱۹- عیسائیت کا ایک مقصد ہے۔ ہر دم، ہر لمحہ، ہر وقت اس میں مشغولی۔ مشن (مقصد) کیا چیز ہے، نام سے ظاہر ہے۔ ساری قوم کا مقصد، غلام اور بادشاہ دونوں کا مقصد (مشنری) مقصد زندگی ہر وقت نظر کے سامنے۔ اُن کی حکومت اور ان کا حاکم بھی اسی لئے ہوتا ہے۔ پوری قوم اسی میں لگی ہوئی ہے۔ ۲۰- عیسائی دنیا کی مصنوعات میں چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی کوئی چیز ایسی نہیں ہوتی جو صلیب سے خالی ہو۔ یہ ان کی سب سے ادنیٰ خدمت دین ہے، اس طرح وہ دنیا کے ہر گھر میں عیسائیت کا شعار پہنچاتے ہیں، بلکہ گھروں کو ان نشانوں سے بھر دیتے ہیں۔ ہمارے شاہوں اور گداؤں دونوں کے گھر ان نشانوں سے آباد ہیں، مَزَّین ہیں۔ خود حَرَمَین شریفین کی جانمازوں اور قالینوں پر ہزاروں صلیبیں بنی ہوئی ہیں اور عمارتیں تو بنائی جاتی ہیں صلیب کی بنیاد پر !
۲۱- کیا یہ نفس کا دھوکا نہیں ہے کہ پہلے اپنے آپ کو بنالیں، پھر دوسروں کو دعوت دیں گے؟ ۹ ہزار برس ہوگئے آج تک تو بنے نہیں، دس ہزار برس مزید درکار ہیں۔ (قادیانیوں کی مثال بھی اِس دھوکے کا جواب ہے ! )