ص۔ ب ۴۳۷ ، مدینہ منورہ
الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۲۳
۳۲۔ تحریکِ خلفت میرے بچپن اور لڑکپن کی چیز ہے، جلسوں میں نظمیں پڑھتے تھے، عورتوں کے مجمع میں جاکر چندہ جمع کرتے تھے۔ اس وقت تو کبھی خیال بھی نہیں آیا، اب سوچتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے، ہم جھولیاں بھر بھر کر لاتے تھے اور کبھی ایک چھلا اس میں سے لینے کا خیال نہیں پیدا ہوا۔ مقصد عالی اخلاق کو خود بنا دیتا ہے۔ ہزاروں، لاکھوں بلکہ کروڑوں انسان یکایک بن گئے تھے۔ جامعہ ملیہی بھی اس کا ایک مظہر تھی۔ قرآن کی تلاوت میں اور تہجد کی نماز میں ایک فیشن بن گئی تھیں۔
۳۳۔ مقصد مشترک کے لئے جب متحد ہوئے ہیں (اور مقصد مشترک خود ہی متحد کر دیتا ہے! ) تو آپس کے اختلاف دب جاتے ہیں، کام مسلسل ہو تو فنا بھی ہوسکتے ہیں ۔ یہ ہم نے خلافت میں دیکھا ، یہی آپ متحدہ محاذ میں دیکھ رہے ہیں ۔ ۳۳۔ ہمارے ہاں سیکڑوں فرقے پیدا ا ہی اس لیے ہوئے کہ ملت کے سامنے کوئی مشترک مقصد نہیں تھا ۔ آج مقصد کی تڑپ پیدا ہو جائے ، ساری حماقتیں ختم ہو جائیں گی ۔
یہ ایک مکتوب ہے جس کو میثاق (لاہور)
بابت مارچ ۔ اپریل ۱۹۷۰ء سے یہاں نقل کیا گیا ہے ، مکتوب نگار کا نام و پتہ یہ ہے : عبد القيوم (عبد الملک)
ص۔ ب ۴۳۷ ، مدینہ منورہ
موجودہ صدی کے ربع اول کے آخر میں خلافت تحریک اٹھی اور سارے ملک میں طوفان کی طرح پھیل گئی۔ یہ تحریک اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے سیاسی تھی۔ مگر تحریک نے جو نعرے اور دلائل استعمال کئے وہ سب مذہبی تھے۔ چنانچہ جو لوگ اس تحریک سے متاثر ہوئے ان میں مذہبیت اتنے زور شور کے ساتھ پیدا ہوئی کہ " قرآن کی تلاوتیں اور تہجد کی نمازیں بھی عام فیشن بن گئیں "۔ یہ مثال بتاتی ہے کہ کس طرح ایک سیاسی تحریک بھی مذہبی اخلاقیات پیدا کر دیتی ہے۔ اگر چہ اس قسم کی اخلاقیات کی کوئی اسلامی قیمت نہیں۔ اسلامی قیمت صرف ان اخلاقیات کی ہے جو جہنم کے شعلوں کو دیکھ کر آدمی کے اندر ابھری ہو نہ کہ سیاسی مسائل کو دیکھ کر ۔ دنیا کے لحاظ سے ان اخلاقیات کی اہمیت ہے جو دیر پا ہوں اور آخرت کے لحاظ سے وہ اخلاقیات اہمیت رکھتی ہیں جو خدا کے سامنے جوابدہی کے احساس سے ابھری ہوں۔ مگر ہنگامی تحریکوں میں دونوں میں سے کوئی قدر بھی موجود نہیں ہوتی۔ نہیں کی جاتی لیکن معلوم نہیں ہوتی۔