Al-Risala · May 1978 · page 28

عرب اسرائیل

الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۲۸

عرب اسرائیل

اردن کے شاہ عبداللہ کو ۱۹۵۱ء میں مسجد اقصیٰ (یروشلم) میں قتل کر دیا گیا تھا۔ ان کو قتل کرنے والا ایک فلسطینی انتہا پسند تھا۔ ۲۰ نومبر ۱۹۷۷ء کو مصر کے صدر انور السادات نے مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کی ۔ اور صحیح و سالم قاہرہ واپس آگئے ۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ ۲۶ سال پہلے مسجد اقصیٰ کی زمین پر مسلمانوں کا غلبہ تھا ۔ آج وہاں یہودی قابض ہو چکے ہیں۔ فلسطین کی بازیابی کے بارے میں عربوں نے اور ساری دنیا کے مسلمانوں نے جو پالیسی اختیار کی ، اگر اس میں انھیں خدا کی مدد حاصل ہوتی تو نا ممکن تھا کہ آغاز تحریک میں جہاں وہ تھے اس سے آج اتنا زیادہ پیچھے۔ چلے جاتے اسرائیل کے بارے میں عربوں اور ساری دنیا کے مسلمانوں کی پالیسی اب تک یہ رہی ہے کہ اس کے وجود کو سرے سے تسلیم نہ کیا جائے۔ مصر کے سابق صدر جمال عبد الناصر نے اسی موقف کو بعد کے الفاظ میں اس طرح ادا کیا تھا :

نحن ابناء الفراعنة سنر میکم فی البحر ہم فرعونوں کی اولاد ہیں۔ ہم تم کو سمندر میں دھکیل دیں گے۔

مگر آج مصر اور دوسرے مسلم ممالک اس کو تسلیم کرنے کے لئے اپنے کو راضی کر چکے ہیں، صرف اس شرط پر کہ اسرائیل اپنے بعد کے مقبوضات عربوں کو واپس کردے! الٹی سمت میں یہ کامیاب سفر بھی عجیب ہے۔

آبيتی

جون ۱۹۷۰ کا واقعہ ہے۔ میں نینی تال کے ایک اسکول میں فزکس کا استاد تھا۔ ایک لڑکا میرے پاس ٹیوشن کے طور پر پڑھنے آتا تھا۔ اس کا نام وزیر سنگھ تھا۔ عمر تقریباً سترہ سال تھی ۔ ایک روز وہ کسی قدر دیر سے آیا۔ حال یہ تھا کہ قمیص پھٹی ہوئی ، ہونٹوں سے خون جاری ، بال بکھرے ہوئے ۔ اس کا یہ حلیہ دیکھ کر میں نے خیریت دریافت کی ۔

اس نے بتایا کہ وہ آرہا تھا کہ راستہ میں ایک مقام پر ایک رکشہ والے سے اس کا ٹکراؤ ہو گیا۔ اس کے بعد لڑکے میں اور رکشے والے میں تو تو میں میں ہوئی اور دونوں لڑگئے۔ رکشے والا سر دار تھا اور اپنے روایتی حلیہ میں تھا۔ تربط کا بے داڑھی مونچھ اور بغیر پگڑی تھا۔ بظاہر معلوم نہیں ہوتا تھا کہ وہ سردار ہے۔ لڑائی میں رکشے والے نے لڑکے کو پھینک دیا۔ اور مارنے لگا۔ اتنے میں لڑکے نے پنجابی زبان میں رکشے والے کو برا بھلا کہا۔ یہ سن کر رکشے والا ٹھٹھک گیا۔ اس نے پوچھا:

"تم کون ہو، تمھارا نام کیا ہے"

"وزیر سنگھ"

"کیا تم سردار ہو،"

"ہاں۔"

اس کے بعد رکشے والا فوراً اٹھ گیا۔ پہلے کیوں نہیں بتایا۔ سردار سردار کو نہیں مارتا “ اس نے کہا اور دونوں گرد جھاڑتے ہوئے اپنے اپنے راستہ پر چلے گئے۔ سید حیدر علی ایم، ایس، سی (پیدائش ۴م ۱۹) دہلی

‹ Previous page Next page › Contents of May 1978 All issues

Printed page